اہل سنت والجماعت کی تنظیموں نے فلسطین اور اسرائیل کے موجودہ صورتحال پر ویبنار

IQNA

مظلوم فلسطینیوں کی حمایت

اہل سنت والجماعت کی تنظیموں نے فلسطین اور اسرائیل کے موجودہ صورتحال پر ویبنار

16:57 - May 18, 2021
خبر کا کوڈ: 3509326
تہران(ایکنا) مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن،رضا اکیڈمی،غوسیہ اکیڈمی اور ایم اے بی آئی ایم کی جانب سے "فلسطین میں موجودہ صورتحال اور معاشرتی شہریوں کے کردار” پر ویبنار منعقد ہوا۔

اہل سنت والجماعت کی تنظیموں نے فلسطین اور اسرائیل کے موجودہ صورتحال پر کیا ویبینار، شدید غم و غصہ کا اظہاراردو صحافت نیوز کے مطابق محمد اعظمی عبد الحمید (صدر: ایم اے پی ایم۔ ملائیشیا) نے فلسطین کی مختصر تاریخ بیان کی اور وہاں کے لوگوں کے جلا وطنی اور ملک بدری کے افسوس ناک داستان بتاتے ہوئے موجودہ صورتحال پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور اسرائیلی مظالم کا پرزور مذمت کیا اور فرمایا کہ یہ اہم اور قیمتی وقت ہے کہ پوری امت مسلمہ متحد ہوکر کر فلسطین کے حل کے لئے ایک مضبوط اور مستحکم لائحہ عمل اپنائے۔ عالمی اور قومی تنظیمیں میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں، یہاں تک کہ صوبائی اور علاقائی تنظیمیں اور دانشور حضرات بھی فلسطینی اور اسرائیلی تنازعہ پر لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرائیں اور یہ احساس دلائیں کہ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے بہت اہم، نازک اور حساس مسئلہ ہے۔ ہر کوئی اپنی وسعت کے مطابق فلسطینیوں کی امداد کے لیے ہر وہ طریقہ اپنائے جو طریقہ ان سے ممکن ہوسکے۔ ائمہ حضرات اپنے مساجد میں فلسطین کے حقائق سے آگاہ کرائیں، دانشور حضرات رسائل و جرائد میں اس کا تذکرہ کریں تاکہ لوگوں میں میں عام شعور پیدا ہو اور وہ اس نازک مسئلہ کو سمجھ سکے اور اس طریقے سے قوم مسلم کا ہر فرد فلسطینیوں کی جدوجہد میں شامل ہوسکیں گے۔

الحاج سعید نوری (چیرمین رضا اکیڈمی، انڈیا) نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر فرد ایک چھوٹا سا ویڈیو بنائے جس میں صیہونی مظالم کا پرزور طریقے سے مذمت کرے اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کندھا سے کندھا دے ملا کر کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔ اس سے نہ صرف فلسطینی مسلمان کو اس جدوجہد اور لڑائی میں قوت و توانائی ملے گی بلکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اپنے آپ کو تنہا نہیں محسوس کریں گے۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان جان پریشان حال ہو تو دوسرے مسلمان کو اس کا احساس ضرور ہونا چاہیے۔

سلمیٰ محمد ( میڈیا ایکٹیوسٹ، بلوگر الجزیرہ نیوز۔ غزہ فلسطین) نے فلسطینیوں کے درد و الم، ان پر ہونے والے مظالم اور رونگھٹے کھڑے کر دینے والے سانحات سناتے سناتے رو پڑی۔ کہنے لگی کہ یہاں پرامن شہریوں کو نشانہ بنانا تو درکنار یہاں تک کہ معصوم بچے اور خواتین کو بھی شہید کیے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے مکانات مسمار اور تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں۔ لوگ ہر وقت خوف و ہراس میں جی رہے ہیں، معلوم نہیں کہ کب اسرائیلی بربریت کے شکار ہوجائے اور جام شہادت نوش کر لے۔ یہاں پر ظلم و بربریت کی انتہا ہوگئی ہے۔ لوگ امن کے لئے جلاوطنی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے۔ ہر وقت خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ کہنے لگی کہ براہ کرم ہمارے لیے آپ لوگ آواز بند کریں۔ عالمی برادری تحفظ حقوق انسانی کے لیے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمارا قصور کیا ہے؟ یہی نا کہ ہم اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں یہ صرف اور صرف ہماری ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ کہتی ہوئی وہ اپنی گفتگو ختم کی کہ برائے کرم ہم لوگوں کی ہر نوعیت سے مدد فراہم کریں۔

ایڈووکیٹ رضوان اشرفی (بنگلہ دیش) نے انتہائی غم و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش ہمیشہ سے ہی انتہا پسند اسرائیل کے خلاف رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارے ویزہ اسرائیلی ریاست کے لیے کلعدم ہیں۔ یہاں ملک بھر میں اسرائیل کی مخالفت میں احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں اور ہم ہر جہت سے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کندھا سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ فلسطینی حضرات اپنے آپ کو اس لڑائی میں تنہا نہ محسوس کریں۔

زید ابو زیاد ( پیس ایکٹیوسٹ۔ یروشلم فلسطین) نے بتایا کہ صہیونی فوج ویسٹ بینک میں ہر روز کہیں نہ کہیں حماقت کر رہی ہے اور مسلمان ظلم و بربریت کیے شکار ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی اقوام متحدہ کے قوانین کے خلاف ہماری زمین پر غاصبانہ قبضہ کر رہے ہیں۔ اگر ہم احتجاج کریں تو ہمیں ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔نماز پڑھنے جائیں تو اس میں میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک بتایا کہ تقریبا ٩٠ فیصد فلسطینیوں کے گھروں میں سے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد اسرائیلی فوج کے تشدد کا شکار ہے۔ ابھی موجودہ صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ہم لوگ رمضان کے آخری عشرہ میں پرامن طریقے سے نماز ادا کر رہے تھے مگر ان ظالموں نے ظلم کی انتہا کردی، پیر گیس، ربر بولیٹس اور اسٹن گرینڈ سے ہم پر حملے کئے۔ عالمی برادری صرف اور صرف ہمارے لیے اظہار یکجہتی پیش کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ کہ عملی اقدام کریں۔ آپ حضرات اپنے اپنے ممالک میں اپنے حکام وقت کو مجبور کرائیں کہ وہ وہ اسرائیل کی پالیسی کے خلاف کھڑے ہوں۔ دیگر ممالک کے سربراہان اس نسل کشی کے خلاف صرف کھڑے ہوں۔ یہاں ہاں بچوں کو شہید کیے جا رہے ہیں، خواتین بیوہ ہو رہی ہیں۔ یہاں عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کے جا رہے ہیں۔ حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے عالمی برادری سامنے آئیں”. اس ویبینار کے ناظم ایم ایس او کے قومی صدر ڈاکٹر شجاعت علی قادری اور ان کے علاوہ بہت سارے دانشور، علما و فضلا حضرات موجود تھے۔

نظرات بینندگان
captcha