ایکنا رپورٹ: بین الاقوامی ہم آہنگی اور اتفاق، افغانستان میں امن کا راستہ

IQNA

ایکنا رپورٹ: بین الاقوامی ہم آہنگی اور اتفاق، افغانستان میں امن کا راستہ

9:30 - June 25, 2021
خبر کا کوڈ: 3509658
تہران(ایکنا) افغانستان میں امن ہمسایہ ممالک کے کردار کے بغیر نہیں آسکتا اور یہ وہ نکتہ ہے جس سے امریکہ نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔

افغانستان میں یکے بعد دیگر شہروں کے سقوط کا سلسلہ شروع ہے اور طالبان کی پیشروی کے ساتھ ایک بار پھر ماضی کی تلخ یادیں تازہ ہورہی ہیں۔ شہروں کے سقوط کے حوالے سے افغان حکومت عقب نشینی کو حکمت عملی کا نام دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب تیزی سے شہروں پر طالبان کا کنڑول ہوتا جارہا ہے۔

 

منگل کو بندر شیرخان جو تاجیکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے وہاں پر طالبان نے کنڑول حاصل کرلیا اور اسکو اہم ترین قبضہ قرار دیا جارہا ہے۔

 

دوسری جانب امریکی اور دیگر غیر ملکی فورسز جو اس وقت زیادہ تر کابل اور بگرام ائیرپورٹ میں موجود ہیں چند ہفتوں میں افغانستان چھوڑ کر نکل رہی ہیں اور طالبان اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے گذشتہ چند مہینوں میں چالیس ڈسڑکٹ پر قابض ہوچکے ہیں۔

 

صرف چند روز میں شمالی علاقوں کے بارہ اضلاع پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے اور نیویارک ٹایمز کے مطابق امریکی فوجوں کی انخلا کے آغاز سے اب تک پچاس چھوٹے شہروں پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔

ایکنا رپورٹ:بین الاقوامی ہم آہنگی اور اتفاق، افغانستان میں امن کا راستہ

طالبان فتح کے نشے سے چور بڑے شہروں کی سمت گامزن ہیں اور افغان فوج کمزور پوزیشن میں نمایشی مقابلہ کررہی ہے اور ان حالات میں عوامی لشکروں سے لوگوں نے امیدیں قایم کرلی ہیں۔

امریکہ اور طالبان معاہدے اور فوجی انخلا کے فیصلے کے بعد سے افغان فوجی دلسردی سے مقابلہ کررہی ہے اور انکو ہوائی سپورٹ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

 

میدان میں پیشروی کے ساتھ بم پھاٹنے اور بارودی سرنگوں سے بھی بھی طالبان افغان حکومت پر دباو میں اضافہ کررہا ہے اور افغان حکومت سے مذاکرات بھی سست روی کا شکار ہے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں صرف طالبان قیدیوں کو آزادی ملی ہے۔

ایکنا رپورٹ:بین الاقوامی ہم آہنگی اور اتفاق، افغانستان میں امن کا راستہ

تاہم ان حالات میں امریکی اور جوبائیڈن کا کیا کردار رہا ہے؟ جوبائیڈن نے ظاہرا الگ پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ہے اور انکو توقع ہے کہ اشرف غنی کی حکومت نہیں گرے گی اور اس وقت وہ امریکہ میں اشرف غنی کو اس بات کا اطمینان دلا رہا ہے۔

تاہم جوبائیڈن کو معلوم ہے کہ وہ اس وقت صرف مالی اور لاجیسٹک سپورٹ ہی کرسکتا ہے جب کہ ماہرین کا خیال ہے کہ ایک بین الاقوامی اجماع یا اتفاق جسمیں روس، چین، پاکستان اور ایران شامل ہو واحد امن اور اشرف غنی حکومت بچانے کا راستہ ہے۔

ماہرین کے مطابق جوبائیڈن کو اس بات کو درک کرنا ہوگا کہ افغانستان میں امن ہمسایہ ممالک کے بغیر نہیں قایم ہوسکتا اور عراق و افغانستان میں اتنے عرصے رہنے کے بعد امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ اقتصادی خوشحالی اور امن کے بغیر انکی فوجی جواز کا کوئی وجہ نہیں اور ان ممالک کو وابستہ رکھنا بیجا ہوگا۔

 

افغانستان کی موجود ہ حالت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک کثیر الاتفاق حکومت افغانستان کی کثیر الاقوامی سرزمین پر محدود مذاکرات سے زیادہ توقع قایم کرنا مشکل ہے اور اس کا کوئی نتیجہ افغان حکومت کے لیے مثبت نہیں ہوسکتا اور صرف مظلوم بیگناہ عوام قربانی بنتے رہے گی جو صرف امن و سکون کی آروز میں زندگی گزار رہی ہے۔/

3979626

 

نظرات بینندگان
captcha