
واشنگٹن کا اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تمام امریکی اور نیٹو فوجیوں نے بگرام ایئر بیس خالی کردیا جہاں سے اتحادی فوج نے طالبان اور القاعدہ کے اتحادیوں کے خلاف دو دہائیوں تک آپریشن جاری رکھا۔
افغان وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حکومتی افواج کے ساتھ لڑائی میں 300 سے زیادہ طالبان جنگجو مارے گئے۔
صوبہ ہلمند میں رات کے تیسرے پہر میں فضائی حملوں سمیت زمین فوج کے حملوں میں سیکڑوں طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کی فراہم کردہ فضائی مدد کے بغیر افغان فورسز جدوجہد کریں گی۔
ہلمند کی صوبائی کونسل کے ایک رکن عطا اللہ افغان نے کہا حالیہ دنوں میں افغان فضائیہ نے طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف اپنے فضائی حملے تیز کردیے ہیں اور باغیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب طالبان نے حکومت کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ہم منصف افغان صدر اشرف غنی سے کہا تھاکہ افغان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اب ان کی ذمہ داری امریکی فوج کے انخلا کے بعد اس کے ااثرات سے نمٹنا ہے۔
امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔
اس حوالے سے کابل کے ایک رہائشی نے کہا کہ میں تاریخ ایک مرتبہ پھر دوہرائی جاری ہے، امریکی بھی وہی کر رہے ہیں جو روسیوں نے کیا تھا، وہ جنگ کو ختم کیے بغیر جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک اور خانہ جنگی کے دھانے پر ہے کیونکہ طالبان نے اپنے حملے تیز کردیے ہیں اور امریکی وہاں سے نکل رہے ہیں۔