
قومی اواز کے مطابق نوابوں کے شہر لکھنؤ میں ایک اسلامی مدرسہ کو کووڈ کیئر کلینک میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ اس سے علاقہ کے لوگوں کو فائدہ ہو سکے اور آگے اس طرح کے مزید اقدام اٹھائے جائیں۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق گنجان آبادی والے کشمیری محلہ میں واقع مدرسہ ابو طالب کو کلینک میں تبدیل کیا گیا ہے اور اس کا افتتاح مدرسہ کے مہتمم مولانا سیف عباس کے ہاتھوں کیا جائے گا۔ مدرسہ میں قائم کیے جانے والے اس کلینک میں مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔
مدرسہ کلینک میں ڈاکٹر، نرس اور طبی اہلکار موجود رہیں گے۔ یہاں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتا لگانے کے لئے کووڈ تشخیص کٹ، آکسی میٹر سمیت دیگر آلات بھی موجود رہیں گے۔ دوسرے مرحلہ میں ابو طالب چیری ٹیبل کلینک میں آئسولیشن بیڈ بھی ہوں گے اور اسے پرائمری آئسولیشن سینٹر کے طور پر چلایا جائے گا۔
مولانا نے کہا، وبائی بیماری کی دوسری لہر کے دوران اسپتالوں کو بستروں اور دیگر وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے مدرسہ کو کورنٹائن سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سمت میں کام شروع کر دیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اب دوسری لہر ختم ہو گئی ہے اور اب مستقبل میں خطرے سے نمٹنے کے لئے تیاریوں کے تحت کووڈ کیئر سنٹر کو شروع کر دیا گیا ہے۔