
گارڈین کے مطابق مسلم گالف الائنس (MGA) نے مسلمان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے سینکڑوں کھلاڑیوں کو جذب کرلیا ہے۔
اس الائنس کی کوشش ہے کہ مسلمان مذہبی اقدار اور عقیدے کی رعایت کے ساتھ مثلا کھیل کے دوروان نماز، حلال غذا اور جوے کے بغیر گیمز سے استفادہ کریں۔
ایم جی اے کے مالک امیر ملک کا کہنا تھا کہ تین چار گھنٹے کے کھیل میں نماز کا وقت آتا ہے اور کھیل کے اختتام پر کھلاڑی کچھ کھانا یا پینا چاہتے ہیں جو الکوحل سے پاک حلال ہو اور ہم یہ سب فراہم کرتے ہیں تاکہ کھلاڑی یکسوئی سے کھیل سکیں۔
مئی ۲۰۲۰ کو مسلم ڈے گالف مقابلوں کا انعقاد ہوا جسمیں مانچسٹر، لندن اور اسکاٹ لینڈ سے لوگ آئے اور اسی طرح دیگر بڑے ایونٹس یہاں پر ہوتے ہیں۔
ملک کا کہنا ہے کہ mGA بنانے سے اب تک سینکڑوں مسلمان کھلاڑیوں سے مل چکا ہوں جو اسلام فوبیا کا تجربہ کرچکے ہیں۔
ایک کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ان سے کوئی کھیلتا تک نہ تھا مگر اب حالات بہتر ہیں تاہم مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
انکا کہنا تھا کہ حتی گوری خواتین کا خیال ہے کہ انکو گالف میں سائیڈ لآین کردی گیی ہے توسیاہ فام اور پھر اسکارف پہنے خواتین کیا خیال کرتی ہوں گی۔
ملک کا کہنا ہے کہ گالف ان محدود اسپورٹس میں شامل ہے جنمیں مسلمان خواتین سکون محسوس کرتی ہیں اور ہمارا ادارہ بھی اس حوالے سے ایک منفرد ادارہ شمار ہوتا ہے۔
ملک کو امید ہے کہ اس انجمن کو عالمی سطح پر تعارف کرائے گا تاکہ زیادہ لوگ اس کھیل سے لذت اٹھا سکے کیونکہ پاکستان، ترکی، ملایشیا وغیرہ میں اربوں مسلمان آباد ہیں۔/