وزارت داخلہ جرمنی کا اسلامو فوبیا میں کمی کا دعوی

IQNA

وزارت داخلہ جرمنی کا اسلامو فوبیا میں کمی کا دعوی

9:37 - August 09, 2021
خبر کا کوڈ: 3509971
تہران(ایکنا) جرمن وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم میں کمی آرہی ہے تاہم اپوزیشن نے اس پر شک کا اظھار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمن وزارت داخلہ نے اپوزیشن کی جواب طلبی کے حوالے سے رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ ملک میں مسلم فوبیا میں کمی آئی ہے اور اپریل- جون میں صرف نناوے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

 

وزارت داخلہ کے مطابق گذشتہ تین مہینے میں رونما ہونے والے واقعات سال گذشتہ کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں صرف نصف ہے۔

 

وزارت داخلہ کے مطابق جرایم میں مذہبی رسومات کو روکنا، توہین و فحاشی، اموال اور فیزیکل حملے شامل ہیں۔

 

وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۷ میں ایک ہزار ۷۵ نفرت انگیز جرایم کے واقعات رونما ہوئے تھے۔

 

جرمنی میں اکثر حملہ آوروں کا تعلق دائیں بازو کی شدت پسند پارٹی سے ہے جو یہاں پر پناہ گزین کو بیدخلی کے درپے ہیں اور حکومت پر اس حوالے سے دباو ڈال رہے ہیں۔

 

ایک طرف وزارت داخلہ سال ۲۰۲۱ میں جرایم میں کمی کا دعوی کررہی ہے تاہم اپوزیشن پارٹی اس رپورٹ میں شک و تردید کا اظھار کررہی ہے۔

جرمن تجزیہ کار اولا ایلبکه نے جرایم میں کمی کا اقرار کیا ہے تاہم سروے کو انہوں نے نادرست قرار دیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ مذکورہ واقعات صرف رپورٹ ہونے والے واقعات کی ہے جب کہ بہت سے واقعات کا اندراج ہی نہیں ہوا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ بہت سے افراد رپورٹ کے بعد نتائج کے حوالے سے اطمینان نہ ہونے کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں کرتے ۔

 

جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ تخمینہ لگایا جاتا ہے جو کل آبادی کا چھ فیصد بنتا ہے اور ان میں اکثر ترک نژاد ہے جب کہ دیگر اکثریت میں عرب ممالک کے مہاجرین ہیں۔

 

جرمنی میں اکثر مسلمان برلن اور مغربی حصوں میں آباد ہیں جبکہ کچھ دیگر مشرقی جرمنی میں آباد ہیں۔/

 

3989152

 

نظرات بینندگان
captcha