
محرم کی آمد کے ساتھ دنیا بھر میں نواسہ رسول ص کی شہادت کے حوالے سے مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور محفلوں میں کربلا والوں کی تقلید پر عمل کی تاکید کی جاتی ہے تاہم امت مسلمہ کسقدر کربلا والوں کے پیغام کو لے چکی ہے اس حوالے سے معروف عالم دین اور مجلس وحدت کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی سے ایکنا نے گفتگو کی جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
ایکنا: قیام امام حسین ع کا سب سے بڑا فلسفہ اور مقصد کیا تھا۔
سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ایک عظیم مقصد کے لیے اور عظیم موضوع کے لیے مجھے بولنے کی فرصت دی۔
امام حسین کا قیام انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قیام ہے کہ چودہ سوسال بعد بھی اسکی اہمیت و عظمت اور افادیت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور اس کے اثرات آج پوری دنیا میں نظر آرہے ہیں اور رنگ و نسل اور عقیدے کے فرق سے ہٹ کر پوری انسانیت امام حسین سے محبت کرتی ہے ۔
جب امام نے دیکھا کہ دین کے احکام کو پامال کیا جارہا ہے اور معاشرے کے اہم خواص سب خاموش تھے ان حالات میں نواسہ رسول نے عظیم قیام کیا اور پوری دنیا کے سامنے یہ برملا کیا کہ یزید دین کی ترجمانی نہیں کررہا ہے جو خلیفہ رسول کے نام پر دین و وحی کا مذاق اڑا رہا تھا جو منافقت کی انتہا تھی لہذا جب امام عالی مقام نے دیکھا کہ وہ خدا کے احکام کو پامال کیا جارہا ہے لہذا امام نے اپنے مقدس خون سے دین کو بچایا۔
امام کا جو قیام ہے اس کے بہت سارے اہداف و مقاصد ہیں اور جس طرح امام خود فرماتے ہیں کہ میں نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہو اور اصلاح امت تمام انبیاء کے بھی اہداف تھے اور امام نے بھی اس غرض سے قیام کیا تھا اور اس ہدف کے لیے آپ نے بڑی قربانی دی، بلاشک امام نے اعلی انسانی اقدار اور معاشرے میں عدل و انصاف کے بول بالا کرنے کے لیے کربلا برپا ہوئی جس نے انسانیت کو حریت و آزادی کا عظیم درس دیا۔
لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام کے قیام کا سب سے بڑا مقصد دین کی حفاظت اور امت کی اصلاح کرنا تھا اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب حکمران اور نظام صالح ہو جس کو ہم نظام ولایت کہہ سکتے ہیں۔

ایکنا: امام حسین کے قیام میں اخلاقی پہلو کیا دیکھتے ہیں اور کیا اس پہلو سے کربلا کو دیکھا گیا ہے۔
بڑا اہم اور ضروری سوال ہے ، کربلا میں تمام انسانی اقدار و کمالات کو ہم عروج پر دیکھتے ہیں کہ وہاں پر شجاعت آب وتاب سے نظر آتی ہے، کربلا میں درس ایثار وفا کو انتہا پر ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ کربلا میں دریا پر پہنچنے کے باوجود پیاسا عباس امام کی یاد میں پانی پینے سے گریز کرتے ہیں۔
بچوں کو جب شام غریبا کو پانی ملتا ہے تو سب ایکدوسرے کو پہلے پانی پینے کی دعوت دیتے ہیں ، کربلا میں جب دشمن کی فوج پہنچتی ہے تو امام عالی مقام نہ صرف انکو بلکہ انکے گھوڑوں تک کو پانی پلاتا ہے اور یہ صرف آل محمد کا خاصا ہے جس کو ہم انکی سیرت میں دیکھتے ہیں۔
اصحاب کی وفا کو دیکھیے کہ وہ عاشور کی رات چراغ بجھنے کے باوجود امام کی بیعت اٹھانے کی بات پر بھی کہتے ہیں ہزار بار آپ پر قربان کیا جائے ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
امام کی آل نے سخت ترین قید و بند میں جس طرح سے مشکلات کا سامنا کیا اور تاریخ انسانی میں مثال نہیں مل سکتی اور انہوں نے نہ صرف صبر کیا بلکہ شکر کیا۔ خانوادہ رسول نے پامال لاشوں اور بازاروں میں سنگ باری کے باوجود شکایت کا ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا اور اس کی تصویر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی جنہوں نے شام غریبا میں جلے ہوئے خیموں اور دشمنوں کے درمیان بھی تہجد کی نماز ادا کی یہ سب کربلا کے اخلاقی دروس میں پوشیدہ ہیں۔
ایکنا: ہم نے کس حد تک پیغام امام لیا ہے اور نئی نسل کو کسطرح سے یہ پیغام منتقل کرسکتے ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہم کربلا والوں سے شرمندہ ہیں ہم نے کربلا سے درست درس نہیں لیا، ایثار، شجاعت، عشق الہی، خلوص و وفا اور ایثار و شہادت کا درس کربلا سے لینا چاہیے تھا اور کربلا سے کربلائی درس لینا چاہیے تھا اور ان دروس کو نئی نسل تک منتقل کرنا چاہیے تھا مگر اس میں امت اور اہم نے بہت کوتاہی کی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایکنا: عصر حاضر میں وقت کے یزیدوں سے قیام امام سے کیا درس مل سکتے ہیں کہ ہم وقت کے یزید کے خلاف امام کی سیرت میں سبق لیں۔
جو لوگ چلے گیے تھے انہوں نے اپنا کام کردیا اور کربلا والوں نے عظیم ترین کام انجام دیا جو تاریخ میں انمول ہے مگر کیا صرف کربلا کا ذکر کرکے ہم کربلا کا حق ادا کرتے ہیں۔
آج دیکھے دنیا میں عصر کے یزید نے دنیا پر ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے، فلسطین و کشمیر ہو یا افغانستان و پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ، میں سمجھتا ہوں کہ حزب اللہ لبنان کی طرح ہمیں کربلا سے درس لینا چاہیے کہ کسطرح انہوں نے کربلا سے عزت و کرامت کا درس لیا، حضرت امام خمینی واقعا فرزند کربلا ہے جس نے عصر حاضر کے یزید یعنی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ انکے مقابلے حسینی جذبے کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے، جنہوں نے حسینی جذبے کے ساتھ کربلا والوں کے نقش قدم پر قیام کیا اور پاکستان میں ہمارے شہید قاید واقعا حسینی تھے انکے اہداف کی تکمیل کرکے ہم کربلا والوں کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں، خدا سے دعا ہے کہ ہمیں انکی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔