فرانس میں اسلام مخالف قانون پر اعتراضات

IQNA

فرانس میں اسلام مخالف قانون پر اعتراضات

9:15 - August 15, 2021
خبر کا کوڈ: 3510023
تہران(ایکنا) اسلام مخالف قانون پاس ہونے پر جنکو اقدار کا احترام یا علیحدگی پسندوں سے مقابلے کا نام دیا گیا ہے پر شدید اعتراضات شروع ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلام مخالف بل پاس ہونے پر شدید اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، فرانس میں تعصب سے مقابلے کی کمیٹی نے سوشل میڈیا پر اس قانون کو انسانی اور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ یہ قانون آزادی کی بنیادی شقوں کی خلاف ورزی ہے جنکے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

 

لندن کالج کے استاد فلپ مارلیر نے ٹوئٹ میں اس قانون کو فرانس میں انسانی آزادی سے متصادم قرار دیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ یہ قانون مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسی وجہ سے سڑکوں پر کوئی بڑے مظاہرے نہیں ہورہے۔

 

معروف محقق ماٹیو ریگوسٹ نے اس قانون کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے جس سے طبقاتی فاصلوں میں اضافہ ہوگا۔

 

ماہر عمرانیات اور مصنف کوثر حرشی نے اس قانون کو غیرقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو معاشرے سے خارج کرنا ہے۔

 

انسداد اسلاموفوبیا تحریک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کو تاریکی میں پاس کیا گیا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالتی عالیہ آزادی مسلمان کی حمایت نہیں کرے گی؟

 

 

۲۳ جولائی کو فرانس کی پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی گیی جس کو اقدار کی تقویت اور احترام کا نام دیا گیا ہے۔

 

میکرون کی حکومت کی جانب سے تیار شدہ اس قانون کو مسلمان مخالف قرار دیا جارہا ہے جسمیں ان کی زندگی کے مختلف شعبوں کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

 

اس قانون کے رو سے مساجد اور مراکز پر نظارت سخت ہوگی اور انکی مدد یا فنڈنگ کرنے والے افراد یا اداروں کی نگرانی ہوسکتی ہے جب کہ خاندانی امور اور بچوں کو گھروں میں پڑھانے میں بھی مشکلات پیدا ہوگی۔

مسلمان خواتین کے حجاب اور تعلیمی اداروں میں اسکارف پہننے پر بھی سختی اور ممانعت ہوگی۔/

3990735

نظرات بینندگان
captcha