
رپورٹ کے مطابق طالبان نے صوبہ بلغ کے مرکز مزار شریف جو شمال میں افغان حکومت کا آخری قلعہ قرار دیا جاتا تھا پر کنٹرول کرلیا ہے جب کہ اعلی کام ازبکستان کی طرف فرار ہوگیے ہیں۔
طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے مزار شریف کو مکمل طور پر کنٹرول کرلیا ہے۔
الجزیرہ نیوز کے مطابق حکومتی اراکین نے اداروں کو چھوڑ دیا ہے اور ائیرپورٹ کی طرف فرار ہوگیے۔
روٹیرز کے مطابق بلخ کی اعلی کونسل کے سربراہ افضل حدید نے مزار شریف پر طالبان قبضے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے بغیر مزار پر طالبان نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سپاہی اسلحہ چھوڑ کر سرحد کی طرف فرار ہوگیے اور بعض علاقوں سے معمولی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
اس سے پہلے پکتیا، پکتیکا اور لوگر پر طالبان نے قبضہ کرتے ہوئے کابل کے ستر کیلومیٹری تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
طالبان اب تک اٹھارہ صوبوں کے مراکز کو قبضے میں لے چکے ہیں۔
دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں ۱۷۲ طالبان کو مختلف حملوں میں مارا جاچکا ہے۔/