
ایکنا نیوز کی کشمیر سے رپورٹ کے مطابق پولیس نے سرینگر اور جموں میں یلغار اور آنسو گیس کے گولے داغے اور نواسہ رسول دو جہاں کے عزاداروں کو تتربتر کرنے کی کوشش کی جبکہ عزداروں پر تشدد اور لاٹھی چارج کی بھی اطلاعات ہیں۔
قابض فوج کے اہلکاروں نے سرینگر کے آٹھویں روز کے جلوسوں کو روکنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
عزداروں کی بڑی تعداد ڈالگیٹ کی سمت جارہے تھے اور سرینگر بازار میں پولیس نے انکا راستہ روکا۔
پولیس نے اس موقع پر عزداری کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، صحافی سجاد حمید کے مطابق آنسو گیس سے انکے کیمرے کو توڑ دیا گیا ہے۔
زرایع کے مطابق سرکاری حکام عزاداری کو اجتماع میں بدلنے کی کوشش کررہے تھے جہاں ان اجتماع میں بھارت مخالف نعرے لگایے جاتے ہیں اور اسی لیے عزاداری کو ممنوع کیا جارہا ہے۔
جموں کشمیر کی پولیس نے گذشتہ سال بھی سید الشہدا کے عزاداروں پر حملہ اور متعدد کو گرفتار کیا تھا۔
حزب اتحاد المسلمین نے سال ۲۰۰۸ میں عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر میں عزاداری پر پابندی کو ختم کرنے کا حکم دیں۔/