
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں سے جلوس برآمد ہوئے، اس دوران کورونا کے پھیلاؤ کی چوتھی لہر سے بچاؤ کے لیے جلوسوں میں ایس او پیز کا بھی خیال رکھا گیا۔
اس موقع پر علمائے کرام و ذاکرین اپنی تقاریر میں حضرت امام حسین کی لازوال، عظیم قربانی کو خراج پیش اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور کربلا میں امام مظلوم کی شہادت پر وقت کے امام کو پرسہ پیش کیا۔

سخت سیکیورٹی میں نکالنے گئے ماتمی جلوسوں میں لاکھوں عزاداروں نے ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کیا۔
جلوسوں کے راستوں میں بڑی تعداد میں نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ نماز ظہر نماز شہداء کربلا کی یاد میں نماز عشق باجماعت ادا کی گیی

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا، جلوس سے قبل مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا، جلوس کے اختتام پر حسینیہ ایرانیاں میں شام غریباں کا آغاز ہو چکا ہے۔

لاہور میں دسویں محرم کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا جو شام میں کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

مرکزی جلوس چوک رنگ محل مسجد وزیر خان چوہٹہ مفتی باقر سوہا بازار اندرون ٹیکسالی گیٹ اور اندرون بھاٹی سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہوا، جلوس میں شامل عزا داروں نے نوحہ کنی، ماتم اور زنجیر زنی کی جس میں خواتین سمیت بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس شہدا چوک علمدار روڈ سے برآمد ہوا جہاں میزان چوک پر علما نے تقاریر کی اور نماز جماعت ادا کی گیی۔
پشاور میں 10 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ سید رضوی علی شاہ چڑیکوبان سے برآمد ہوا۔

سخت سیکیورٹی انتظامات
مختلف شہروں میں پولیس محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے لیے مختلف مقامات پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔

10 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کے راستوں اور گزرگاہوں سمیت مرکزی جلوس کی نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس، رینجرز اور ایف سی مرکزی جلوس کے اطراف اور گزرگاہوں پر تعینات کیے گئے تھے۔

یوم عاشور پر صدر، وزیر اعظم کے پیغامات
یوم عاشور کے موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی شہادت اس پختہ عزم اور صبر و تحمل کی علامت ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق و صداقت کا ساتھ دینا چاہیے اور حقیقی نصب العین کے حصول کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے بھی ہرگز دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قوم پر زور دیا کہ وہ حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات کے مطابق نفرت، بدنیتی اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد رہے۔
جلوس عزا کے اختتام پر مختلف امام بارگاہوں اور مساجد میں مجالس شام غریباں بھی منعقد ہوئیں۔/




