
رأی الیوم کے ایڈیٹر اور عرب دنیا کے معروف لکھاری اور تجزیہ نگار عبدالباری عطوان اپنے اداریے
« طالبان کی نرم فتح اور امریکی شکست؛ کیا طالبان امریکی سازشوں کے مقابلے میں استقامت کرے گا جو ایران و روس اور چین کے خلاف متوقع ہے؟ خدشات کسقدر سنجیدہ ہے؟» کے عنوان سے
عطوان ویتنام اور افغانستان کی صورتحال کا مقایسہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے مناظرنے امریکی حیثیت اور کردار کو خدشہ دار کیا جو انکی شکست کی واضح تصویر شمار کی جاسکتی ہے کہ اب وہ ایک سپرطاقت نہیں رہا ہے۔
افغانستان میں ایک امریکی آلہ کار حکومت کی شکست و ناکامی کہ جہاں تین لاکھ فوج ایک گولی فائر کیے بغیر ہار مان لیتی ہے اور انکا صدر ڈالر سے بھرے بریف کیسوں کے ساتھ یوں فرار ہوتا ہے سب امریکی مداخلت اور شکست کے نمونے ہیں۔
افغانستان جہاں امریکہ نے بیس سالوں میں دو ٹریلین ڈالر خرچ کیا اور انکے ڈھائی ہزار فوجی جان سے گیے مگر افغانستان وہی پہنچا جہاں پہلے تھا اور تیسری بار ایک بڑی طاقت کو یہاں ذلت سے ساتھ نکلنا پڑتا ہے۔
افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو شکست اور ختم کرنے کے لیے کیا گیا مگر لاکھوں افغانوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو گیے۔
اربوں ڈالر صرف امریکی اسلحہ فیکٹریوں کے مالکوں اور افغان ایجنٹوں کے جیبوں میں گیے جنکو افغانستان میں اسکول، ہسپتال اور انفراسٹریکچر پر خرچ کیا جانا تھا۔
امریکی حماقت کا نتیجہ یہ نکلا کو جن لوگوں کو بھوک و بدبختی اور مہاجرت کی فکر سے نجات دلانا تھا ان کو صرف حجاب اور داڑھی سے روکنے کی کوشش کی گیی اور انکو مزید مصیبتوں میں مبتلا کیا گیا شاید انکا جرم بھی یہی تھا کہ وہ شام۔ عراق، لیبیا، یمن، لبنان اور فلسطینیوں کی طرح مسلمان تھے۔
ہم افغانستان کے مستقبل پر واضح پیش گوئی نہیں کرسکتے کیونکہ صورتحال اس وقت پیچیدہ ہیں مگر مستقبل میں امکانی طور پر چند ایک اہم مسائل اور چیلنجیز پیدا ہوسکتے ہیں:
۱- کیا طالبان بعنوان ایک سنی گروپ کے ایران کے خلاف ہونے والے آپریشن یا اقدامات کے مقابلے کھڑا ہوسکتا ہے جنمیں ممکنہ طور پر ہرات، مزار اور دیگر شہروں میں فرقہ وارانہ سازشیں شامل ہوسکتی ہیں۔
۲- امریکہ طالبان کو چین کے خلاف اویغور میں مسلم مظالم کے نام پر بھڑکانے کی کوشش کرسکتا ہے جس طرح سے روس کے خلاف جہاد کے نام پر جنگ شروع کی گیی،کیا اس مسئلے پر طالبان سنجیدہ فیصلہ کرسکتے ہیں؟
۳- سابق روسی ریاستوں میں اسلامی طرز کے بدامنی اور شدت پسندانہ مسائل ابھارنے کے لیے طالبان کو متحرک کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے جس پر روسی صدر نے بھی خدشات کا اظھار کیا ہے۔
۴- افیون کی کاشت میں اضافہ ہوسکتا ہے تاکہ افغانستان کی معاشی حالت کو اس سے بہتر کرسکے۔
اس وقت کچھ کہنا قابل از وقت ہے تاہم کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ نیا طالبان ان مسائل کو درک کریں گے اور روس، چین و ایران جو طالبان کی طرح امریکی استعمار کے مخالف ہیں ان کے ساتھ بہتر ہم آہنگی سے بدامنی پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ کریں گے کہ جس کے بعض آثار اب تک سامنے آچکے ہیں۔
مختصرا کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اب رژیم چینج طاقت نہیں رہا ہے اور اس کی متعدد کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور میڈل ایسٹ میں انکے کافی حلیف ان سے دور ہوچکے ہیں اور مستند دلائل کی بناء پر وہ روس و چین کے مقابلے میں کافی حد تک اپنی طاقت گنوا چکا ہے۔
ہم اس مسئلے پر بحث نہیں کریں گے کہ کیا طالبان امریکہ پر کامیابی سے سنی اسلام کے احیاء میں کامیاب ہوگا، تاہم صرف امید کرسکتے ہیں کہ وہ امریکہ کو پیچیدہ حالات سے ناجایز فایدہ اٹھانے سے روکنے کی کوشش کرے گا جسمیں وہ روس و چین کے خلاف اقدام کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، دیکھنا پڑے گا کہ کیا طالبان دوبارہ امریکی فریب کا شکار ہوگا کہ نہیں؟