فلسطینی ماں کی آزادی کی مہم/ دو مہینے میں دس بچے شہید

IQNA

فلسطین اپ ڈیٹ؛

فلسطینی ماں کی آزادی کی مہم/ دو مہینے میں دس بچے شہید

9:48 - August 29, 2021
خبر کا کوڈ: 3510119
تہران(ایکنا) سوشل میڈیا پر ایک حاملہ فلسطینی خاتون کی آزادی کے لیے مہم شروع کی گیی ہے جو قید میں ہے، اسی دوران ایک اور بچے کی شہادت سے شہید ہونے والے بچوں کی تعداد دس ہوگئی۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق بچوں کی شہادت اور حاملہ خواتین تک کو قید و بند میں رکھنا معمول بنتا جارہا ہے اور گذشتہ دو مہینے میں اب تک دس معصوم بچے غاصب رژیم اہلکاروں کی فائرنگ سے شہید ہوچکے ہیں۔

 

هیشٹگ «انهار الدیک کو نجات دیجیے» کا ٹرینڈ شروع کیا گیا ہے جو مختلف عرب ممالک میں ٹاپ ٹرینڈ بنتا جارہا ہے۔

 

اس خاتون کو حاملہ ہونے کے باوجود سہولیات سے محروم زندان میں بند کردیا گیا ہے۔

 

۲۵ ساله فلسطینی خاتون کو مارچ میں کفرنعمہ جو مغربی رام اللہ میں واقع ہے وہاں سے گرفتار کیا گیا ۔

 

فلسطینی اسراء کمیٹی کے مطابق انهار حاملہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے اور انکو ڈاکٹر کی اشد ضرورت ہے۔

 

سوشل ایکٹویسٹ محمد الصغیر کا کہنا تھا: انهار الدیک جو حاملہ ہے بچے کی پیدایش قریب ہے اور انسانی و خواتین حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 

سوشل میڈیا صارفین عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے ناراضگی اور غصے کا اظھار کررہے ہیں جو اس مسئلے سے غفلت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

 

فلسطینی شہدا فاونڈیشن کے نمایندے تامر الزعانین نے اس مسئلے کو ایک افسوسناک امر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت چالیس خواتین صیھونی جیلوں میں اسیر ہیں جنمیں سے گیارہ کو ملاقات تک کی اجازت نہیں۔

 

مهجه القدس فاونڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  ۵۵ سالہ فلسطینی اسیر رائد محمد شریف السعدی تینتیس سالوں سے جیل میں قید ہے ۔

 

مذکورہ قیدی کو سال ۱۹۸۹ میں جہاد اسلامی رکن ہونے کے الزام میں قید کیا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی گیی تھی۔

 

مذکورہ فاونڈیشن کے مطابق الراید قدیم ترین قیدی ہے جنکو  صبر کا جنرل قرار دیا جاتا ہے جو ایک چوتھائی صدی سے قید میں بسر کررہا ہے۔

 

ایک اور بچے کی شهادت

بارہ سالہ فلسطینی بچہ «عمر حسن ابوالنیل»  جنکو غزہ محاصرہ کے خلاف احتجاج ک دوران گولی سے زخمی کیا گیا تھا وہ بھی جان کی بازی ہار گیا اور درجہ شہادت پر فایز ہوئے۔

 

عمر حسن جو مشرقی غزہ کے گاوں «حی التفاح» کے رہنے والے تھی انکی شہادت سے مرنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

 

بچوں کی عالمی تنظیم (یونیسف) کے مطابق سات مئی سے اکتیس جولائی تک نو فلسطینی بچے شہید کیے جاچکے ہیں جبکہ ۵۵۶ دیگر بچے زخمی اور ۱۷۰ دیگر قیدی بنائے گیے ہیں۔

 

 یونیسف کا کہنا تھا کہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے وہ بچوں کی حمایت کے پروگرام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔

 

مذکورہ ادارے کے مطابق صیھونی رژیم نے آخری جنگ میں غزہ میں ایک سو سولہ چائلڈ سنٹر، ایک سو چالیس سرکاری سکول کو ٹارگٹ کیا ہے۔/

3993511

نظرات بینندگان
captcha