
رپورٹ کے مطابق طالبان امور خارجہ کے سربراہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کے نمایندے ڈبورالیونز سے ملاقات کی اور انسان دوستانہ مدد پر ادارے کا شکریہ ادا کیا۔
عارضی حکومت کے وزیرانصاف عبدالحکیم شریعت کا کہنا ہے کہ ملک میں محمد ظاهر شاه دور کے بنیادی قانون پر عمل ہوگا ماسوائے ان شقوں کے جو اسلام سے متصادم ہے۔
محمد ظاهر شاه سال ۱۹۷۳ کو حاکم تھا اور اس قانون کے مطابق اس میں ڈیموکریسی، انتخابات خواتین کے حقوق شامل تھے۔
طالبان کے مطابق مذکورہ قوانین اسلامی شریعت سے نزدیک تر ہیں۔
اقوام متحدہ میں تقریر کینسل
افغان نمایندے کے مطابق اس سال کے لیے افغان نمایندے کے خطاب کو کینسل کردیا گیا ہے تاکہ ملکی مفاد میں بہتربات کی جاسکے۔
اس سے پہلے طے پایا تھا کہ اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمایندے غلام اسحاق زئی خطاب کرتے تاہم مشورے کے بعد خطاب کو ملتوی کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے اس بات میں جھگڑا تھا کہ اقوام متحدہ میں اشرف غنی دور کا نمایندہ خطاب کرے یا طالبان کا نمایندہ خطاب کرے گا۔
گذشتہ جمعہ کو اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ اسحاق زی جنرل اسمبلی میں خطاب کرے گا۔
اس کے بعد افغان طالبان کے امور خارجہ کے نمایندے امیرخان متقی نے خط لکھا کہ اسحاق زی اب انکا نمایندہ ہوگا۔
افغانستان میں امریکی جنایت پر چشم پوشی
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے جسٹس کریمخان کے مطابق افغانستان میں جرایم پر تحقیقی کام ہوگا مگر اس میں صرف طالبان اور داعش خراسان پر توجہ مرکوز ہوگی اور امریکی جنایتوں پر کوئی کام نہیں ہوگا۔
اس سے پہلے تحقیق میں امریکی اقدامات کو مشکوک قرار دیا گیا تھا مگر موجود جسٹس جو چھ مہینے پہلے اس پوسٹ پر آئے ہیں انکا کہنا ہے کہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے اس وقت صرف طالبان اور داعش پر توجہ مرکوز ہوگی۔
انسانی حقوق ایکٹویسٹ حوریه مصدق نے اس فیصلے کو افغان عوام کی توہین قرار دیا ہے۔/