
ایکنا نیوز کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر تصدیق کرتے ہوئے تصدیق کی دھماکا صوبہ قندوز کی ایک مسجد میں ہوا جس کے نتیجے میں اہلِ تشیع برادری سے تعلق رکھنے والے ساٹھ نمازی شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ طالبان فورسز کا اسپیشل یونٹ جائے وقوع پر پہنچ گیا ہے اور واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سید خوستی نے دھماکے کی تصدیق کی تاہم تفصیل نہیں بتائی۔
مقامی افراد کا کہنا تھا کہ دھماکا مسجد میں جمعے کی نماز کی ادائیگی کے دوران خودکش دھماکہ ہوا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جب دھماکے کی آواز آئی تو ہم نماز پڑھ رہے تھے۔
افغان نشریاتی ادارے خاما پریس کے مطابق افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے صوبہ قندوز میں ہونے والا یہ پہلا دھماکا ہے۔
دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم طالبان کے قبضے کے بعد داعش کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل 3 اکتوبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔