IQNA

8:40 - October 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3510401
تہران(ایکنا) شہر «بنی خداش» میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی حفظ میں پیش پیش ہیں جہاں ڈھائی سو خواتین حافظات رہتی ہیں۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق تیونس کے  جنوب مشرقی شہر بنی خداش میں داخل ہوتے ہوئے آپ تلاوت قرآن کی آواز سنتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں حفاظ قرآن کی تربیت ہوچکی ہے۔

 

بنی خداش کوحافظوں کا شهر بھی کہا جاتا ہے جہاں پانچ سو مرد و خواتین حفظ قرآن کرچکے ہیں اور چار سو قرآنی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔

 

بنی خداش تیونس کے صوبہ «مدنین» کے پہاڑی علاقوں میں واقع ہے جہاں تاریخی مقامات موجود ہیں جنمیں

جامع مسجد «علوله» بھی شامل ہے جس کو آیسسکو نے اسلامی ورثہ قرار دیا ہے۔

 

حفظ قرآن  بنی خداش میں نسل درنسل چلا آرہا ہے جہاں بچوں کو بچپن سے قرآن کے حفظ کی تربیت دی جاتی ہے۔

 

لوگ مساجد اور بڑی عمارتوں میں جمع ہوتے ہیں اور روایتی انداز میں لوگ حفظ قرآن کرتے ہیں۔

 

حفظ قرآن کا مقابلہ

یہاں پر مدارس اور اسکولوں میں حفظ قرآن کا سلسلہ قایم تھا اور حتی مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں ایک مقابلے کی صورت پیدا ہوتی تھی۔

 

حفظ قرآن کی برکت سے قابل قدر شخصیات یہاں پر جنم لیتی رہی ہی جنمیں شیخ «محمد البارودی»، سربراہ انجمن قرآن تیونس، «عبدالمجید النجار» مسلم علما کونسل کے سربراہ قابل ذکر ہیں۔

 

حفظ قرآن وراثت میں

النجار کا الجزیرہ نیوز سے گفتگو میں کہنا تھا: بنی خداش کو مدرسوں اور قرآنی مراکز سے ہم جانتے ہیں اور یہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔

تیونس؛ «بنی خداش»؛ حفاظ کا شہر+ تصاویر

حفظ قرآن میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں جہاں اس شهرمیں ۲۵۰ حافظات شامل ہیں اور حال ہی میں ۱۰ خواتین جمعیت قرآنی کی نظارت میں حفظ مکمل کرچکی ہیں۔

مذکورہ انجمن کے سربراہ «علی الحویوی» کا کہنا تھا: حفاظ میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں بعض لوگ ریٹائرڈ ہیں بعض ان پڑھ، ہماری کوشش ہے کہ سب کو حفظ کا موقع فراہم کیا جائے۔

بچے بھی اس حوالے سے پیش پیش ہیں جہاں حفظ، تجوید و ترتیل کی کلاسوں میں جوق در جوق شامل ہوتے ہیں اور پھر یہی جوان ہوکر مساجد کی امامت کرتے ہیں، پندرہ سالہ یاسین عثمانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے دس سال کی عمر سے حفظ شروع کیا اور وہ مسجد میں تراویح پڑھاتے رہے ہیں۔

حفظ کلام وحی بوڑھاپے میں

عمر کا سفر حفظ میں رکاوٹ نہیں، ۶۳ سالہ خاتون «منجیه محظاوی» کا الجزیرہ سے گفتگو میں کہنا تھا: خدا کے فضل سے اور دوستوں کی کوشش سے ۶۳ سال کی عمر میں حفظ کرچکی ہوں۔

انکی ۳۹ سالہ دوست جازیه کا کہنا تھا: ہم ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں میں نے خود پانچ سال پہلے حفظ پر کام شروع کیا تاہم اسکول مصروفیات کی وجہ سے چھوڑ دیا تاہم دوبارہ اب سلسلہ شروع کرچکا ہوں اور اب حفظ مکمل کرچکی ہوں۔

اس طرح سے بنی خداش میں حفظ قرآن کا سلسلہ چلتا آرہا ہے اور یہ نسل در نسل منتقل ہوا ہے جہاں قرآن سرگرمیاں ایک زمانے سے جاری ہیں۔/

.

 

4003596

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: