ٹی ایل پی کا احتجاج جاری، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

IQNA

ٹی ایل پی کا احتجاج جاری، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

18:50 - October 28, 2021
خبر کا کوڈ: 3510527
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مسلسل احتجاج کے باعث جمعہ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ کالعدم تنظیم کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کی روشنی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

فواد چوہدری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ایل پی کے ہزاروں کارکنان جمعرات کی صبح 'کاموکی' سے نکل کر گوجرانوالہ شہر کے قریب پہنچ چکے ہیں اور لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔

وزیر اطلاعات نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں ’فسادی ٹی ایل پی‘ کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک کالعدم جماعت کے لوگ سڑکیں خالی نہیں کرتے اور پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے مجرموں کو اداروں کے حوالے نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے اپیل کی کہ محب وطن لوگ اس احتجاج سے خود کو لاتعلق کریں اور اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور ریاست کے خلاف دہشت گردی کا حصہ نہ بنیں۔

اس موقع پر ایک ٹوئٹر صارف نے ان سے سوال کیا کہ کیا تحریک انصاف کا 2014 کا دھرنا فساد کے ضمرے میں نہیں آتا تو انہوں نے جواب دیا کہ سیاسی جماعتوں اور کالعدم جماعتوں کے احتجاج میں فرق ہوتا ہے، ماضی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے سیاسی تحریکیں چلائی ہیں لیکن یہ تحریکیں مسلح نہیں تھیں البتہ بدقسمتی ہے کہ نام نہاد دانشور ایک کالعدم جماعت کی دہشت گردی کو سیاسی معاملہ جانتے ہیں۔

دریں اثنا وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے پولیس اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے کہا کہ ریاست کے پاس دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف قوانین موجود ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کے قتل اور ٹی ایل پی یا کسی بھی گروپ کی دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی سے قانون پوری طاقت سے نمٹے گا۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

یاد رہے کہ ایک دن قبل فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ ٹی ایل پی کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں مذہبی جماعت نہیں بلکہ عسکریت پسند گروپ سمجھا جائے گا۔

نظرات بینندگان
captcha