برطانیہ؛ مسلم مساجد کی سیکورٹی کا پروگرام

IQNA

برطانیہ؛ مسلم مساجد کی سیکورٹی کا پروگرام

6:08 - October 30, 2021
خبر کا کوڈ: 3510535
تہران(ایکنا) برطانوی مسلم کونسل نے نسل پرستانہ حملوں کے پیش نظر مساجد کی سیکورٹی کا خصوصی منصوبہ پیش کردیا۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق برطانوی مسلم کونسل نے نسل پرستانہ حملوں کے تناظر میں سیکورٹی کے خاص انتظامات کو ضروری قرار دیا ہے۔

 

لندن کی مسجد Finsbury Park  پر حالیہ دنوں میں کئی بار حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور سال ۲۰۱۹ کو ایک گاڑی نے حملے میں کئی نمازیوں کو کچل دیا تھا۔

 

مسجد کے متولی محمد کوزبرکا کہنا تھا کہ کورونا بحران کے دوران اس مسجد کو متعدد بار دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

 

کوزبر نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ نسل پرستانہ اقدامات کو فیڈبک مل رہا ہے اور بعض سیاست دان اس حوالے سے باقاعدہ مفنی سپورٹ کررہے ہیں۔

 

مسجد کے متولی کا کہنا تھا کہ پولیس ہر رپورٹ پر مایوس کن رد عمل ظاہر کرتی ہے اور تحقیقات کا کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔

 

کوزبر نے اعلی سیکورٹی حکام سے مساجد خاص کر جمعہ کی نمازوں میں سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

خطرے کی گھنٹی

حالیہ حملوں نے دیگر مساجد کے لیے خطرے کی گھنٹی کی بجا دی ہے اور رکن پارلیمنٹ کے قتل کے بعد مسلمانوں میں بھی خطرے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 

برطانوی وزارت داخلہ نے نفرت انگیز جرایم کے حوالے سے ایک سروے میں کہا ہے کہ سال ۲۰۲۱ کو جرایم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی سروے کے مطابق پینتالیس جرایم میں مسلمان نشانہ بنے اور ان میں مسلمان باحجاب خواتین زیادہ شکار بنی ہیں۔

 

 

مساجد کی سیکورٹی

برطانوی مسلم کونسل نے چھ نکات پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے جس سے مساجد اور اسلامی مراکز کی سیکورٹی پر توجہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

اس منصوبے کے مطابق مساجد کی سیکورٹی کے لیے افراد کو تربیت دینے اور مساجد کی ترجمانی کے لیے ایک اسپوکس مین یا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

 

مساجد میں نماز جمعہ، رمضان المبارک اور تراویح کے اوقات میں سیکورٹی پر کڑی توجہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مساجد کی سیکورٹی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور وسایل سے مکمل استفادے کی سفارش کی گیی ہے ۔

 

برطانوی مسلم کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی دھمکی کو معمولی نہ سمجھا جائے چاہے وہ ای میل یا فون سے ہو یا کوئی تعصب پر مبنی پیغام یا پمفلٹ سے ملی ہو۔

 

کونسل نے نمازیوں سے کہا ہے کہ اول صبح یا رات کو مسجد میں اکیلے جانے سے گریز کیا جائے اور تاریک راستوں سے جانے سے پرہیز کریں۔

 

پریشانی نہ کہ خوف

پورنسموت شہر میں اسلامی مرکز کے ڈائریکٹر ماجد یاسین کا کہنا تھا کہ سیکورٹی والوں سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مساجد کے سامنے ایک لوہے کا دروازہ لگایا جائے تاکہ گاڑی سے کسی نمازی کو کچلا نہ جاسکے۔

 

انکا کہنا تھا کہ سیکورٹی والوں کو بھی خدشات لاحق ہیں اور انہوں سے آہنی دروازے سمیت بعض اخراجات کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ بڑے نقصان سے بچایا جاسکے۔

 

یاسین کا کہنا تھا کہ اسلامی مرکز نے ایک مہم شروع کیا ہے تاکہ برطانیہ کے مختلف اداروں سے ڈائیلاگ سے احترام و قانون پر عمل کی فضاء کو بہتر بنایا جاسکے۔/

4008797

 

نظرات بینندگان
captcha