
الجزیرہ نیوز کے مطابق سعودی عرب نے لبنان کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور ملک میں تمام لبنانی مصنوعایت کی درآمد روکنے کا حکم دیا ہے اور لبنان سے سعودی سفیر کو بھی واپس بلوا لیا ہے۔
یمن پر سعودی تجاور کے بیان پر سعودی عرب اور لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
لبنانی وزیر اطلاعات جرج قرداحی لبنانی کابینہ میں شامل ہونے سے قبل ایک سرگرم اینکر میڈیا پرسن تھا جنہوں نے ٹی وی شو میں یمن حملوں کو روکنے کی بات کی تھی۔
ان سے یمن کے حوالے سے جب سوال پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ یمن پر حملے کو آٹھ سال ہورہا ہے جس کو روکنے کی ضرورت ہے اور یمن کا دفاع یمنیوں کا حق بنتا ہے اور میں انکی استقامت کو سراہتا ہوں۔
اس گفتگو پر سعودی حامی میڈیا نے واویلا مچانا شروع کیا اور اس بیان پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب نے لبنان اور حزب الله کے خلاف الزامات کو دہرایا ہے کہ لبنان سے منشیات کی اسمگنلگ روک کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔
قرداحی کے بیان پر کہ وہ کوئی معذرت نہیں کرے گا سعودی عرب نے سخت اقدامات کا آغاز کیا ہے۔
وزارت خارجه بحرین نے سعودی سے یکجہتی کے لیے بحرین سے لبنانی سفیر کے اخراج کی بات کی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے لبنانی سفیر کے اخراج پر افسوس کا اظھار کیا ہے اور کہا ہے کہ جرج قرداحی کا بیان لبنانی حکومت کا موقف نہیں۔
لبنانی وزیراعظم نے تمام عرب ممالک سے یکجہتی اور اتحاد کے لیے لبنان کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
لبنان مخالف اقدام پر یمنی رہنما «محمد علی الحوثی» نے لبنان سے یکجہتی کے لیے سعودی مصنوعات کی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
انصاراللہ ترجمان «محمد عبدالسلام» نے بھی کہا ہے کہ سعودی کی استعماری سوچ اور پالیسی ان کی ناجایز اقدامات پر پردہ پوشی نہیں کرسکتی۔
عبدالسلام نے لبنان کے عوام کے نام پیغام میں کہا: ہم اپنے لبنانی بھائیوں سے کہتے ہیں کہ سعودی اقدامات سے مت گبھرائے کیونکہ یمن میں شکست کے بعد سعودی کاغذ شیر بن چکا ہے۔
لبنانی ٹی وی چینل MTV نے کہا ہے کہ خلیج فارس کونسل کے دیگر ممالک بھی لبنانی سفیر کو اخراج کردیں گے۔/