
الجزیرہ نیوز کے مطابق ابتدائی مظاہرے الشجره اور حمدات کے علاقوں میں کیے گیے جس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا جن میں مظاہرین نے سوڈان میں فوجی بغاوت کے خلاف نعرے لگائے، بتایا جاتا ہے کہ خرطوم میں انٹرنیٹ جزی طورپر بحال کردیا گیا ہے۔
امان شہر میں نیز مظاہروں کی اطلاعات ہیں جہاں ممکنہ طور پر وہ ممنوعہ پل جہاں فوجی حکام نے ریڈلائن مقرر کیا ہے وہاں سے مظاہرین گزرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
الصحافہ کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کی اطلاعات ہیں جہاں مظاہرین نے ڈیموکریسی کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔
سڑکوں اور راستوں کی بندش
مظاہروں سے قبل سیکورٹی فورسز نے خرطوم میں مختلف راستوں کو بند کردیا ہے اور سوشل میڈیا پر تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان راستوں پر بھاری تعداد میں فورسز کو متعین کردیا گیا ہے۔
مظاہروں میں فوجی سسسٹم کے خلاف اور جمورتی نظام بحالی کے حق میں نعرے لگائے جارہے ہیں۔ دو سال قبل
عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ فوجی کونسل نے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سال ۲۰۲۳ میں جمہوری طریقے سے نظام کو منتقل کردیا جائے گا تاہم اس وقت بھی وزیراعظم کو گرفتار اور فوجی حکام نے قدرت ہاتھوں میں لیا ہے۔/