حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی بحریہ نے بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کر کے اپنے چوری ہونے والے خام تیل کو کامیابی سے واپس لے لیا ہے۔ امریکی بحریہ کے حمایت یافتہ بحری قزاقوں نے ایران کے ایک آئل ٹینکر پر قبضہ کر کے اس میں سے خام تیل دوسرے آئل ٹینکر میں منتقل کر دیا۔ کچھ دیر بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی بحریہ کے کمانڈوز نے ہیلی برن کے ذریعے اس آئیل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ قریب ہی موجود امریکہ کی جنگی کشتی نے اس آئل ٹینکر کو واپس ایران لانے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن جب ایرانی بحریہ نے سخت وارننگ دی تو وہ پیچھے ہٹ گئی اور ایرانی فورسز اس آئل ٹینکر کو بحفاظت اپنے ساحل پر واپس لانے میں کامیاب ہو گئے۔
اس واقعے کے بعد سب اس انتظار میں تھے کہ اب امریکی حکام کا ردعمل کیا ہو گا۔ یہ سوال سب کے ذہن میں موجود تھا کہ آیا امریکی حکمران اس عبرتناک شکست کا بدلہ لینے کیلئے کسی بڑی انتقامی کاروائی کا فیصلہ کریں گے؟ یا اپنی اس تحقیر سے آنکھیں موند کر سفید پرچم لہرانے میں مصروف ہو جائیں گے؟ کافی تاخیر سے امریکہ کا سرکاری ردعمل بھی سامنے آ ہی گیا۔ امریکی موقف شک اور تذبذب کا شکار تھا۔ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں ایران کی وضاحت کی تصدیق کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ذرائع ابلاغ نے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے وقت اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شائع کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں ایرانی فورسز کی وارننگ کے امریکی فوجی ہیلی کاپٹر اور بحری جنگی کشتی کو دور ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک امریکی حکومتی عہدیدار نے میگزین نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ سپاہ پاسداران کی چند جنگی کشتیوں نے اس آئل ٹینکر کا گھیراو کیا جس پر ایرانی کمانڈوز نے ہیلی برن انجام دیا تھا اور اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ یہ موقف اس خبر کی تصدیق کرتا ہے جو ایرانی میڈیا ذرائع سے شائع ہوئی تھی اور اس پر امریکی حکام نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں اس تناو کا آغاز چند دن پہلے اس وقت ہو چکا تھا جب امریکہ نے اسرائیل کے ایف 15 جنگی طیاروں کے ہمراہ اپنے بمبار طیارے خطے میں منتقل کئے۔ یہ ایران کے خلاف ایک اشتعال انگیز اقدام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح چند دن پہلے مشرق وسطی سے متعلق امریکہ کے سابق نمائندے ڈینس راس نے بھی اشتعال انگیز اقدام انجام دیا۔

ڈینس راس نے امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو فوجی حملے کی دھمکی دے اور ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کیلئے اپنے بمبار طیارے اسرائیل بھیج دے۔ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم لبنان کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں انجام دینے میں مصروف ہے۔ ان فوجی مشقوں کا مقصد حزب اللہ لبنان کے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کی مشق کرنا ہے۔ ان مشقوں میں ایسے مفروضہ حالات کو سامنے رکھا گیا ہے جن میں جنگ کئی ہفتے سے جاری ہے اور افراد پناہ گاہوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ اسپتالوں میں بھی زخمیوں کا شدید رش لگا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں بحیرہ عرب میں موجود امریکی فورسز نے انتہائی پست اقدام انجام دیتے ہوئے ایران کے آئل ٹینکر پر قبضہ کر کے اس میں سے سارا تیل چوری کر لیا۔
امریکہ کا یہ اقدام واضح طور پر ایران کے خلاف اعلان جنگ تھا جس کا مقصد ایران کو فوجی مقابلے کی دعوت دینا تھا۔ البتہ مطلوبہ اہداف اس وقت پورے ہوتے جب جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی حکومت صہیونی لابی کے سامنے مکمل طور پر تسلیم ہو جاتی۔ دوسری طرف ایران نے اس چوری کے ردعمل میں فوری طور پر فوجی کاروائی کی اور اپنا چورہ ہونے والا تیل واپس لے لیا۔ ایران کے اس فوری اقدام نے امریکی حکام کو حیرت زدہ کر دیا اور وہ شدید تذبذب کا شکار ہو گئے۔ امریکی حکمران توقع کر رہے تھے کہ موجودہ حساس حالات میں ایران ایسے فوری فوجی ردعمل سے گریز کرے گا اور سفارتی طریقے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایران کی جانب سے اپنا چوری شدہ تیل واپس لینے کیلئے فوجی راست اقدام بہت اہم پیغام کا حامل ہے۔
بحیرہ عرب میں امریکہ کے خلاف ایران کا یہ فوجی اقدام اس اہم پیغام کا حامل ہے ہم امریکہ سے خوفزدہ نہیں ہیں اور ہر سطح پر اس سے فوجی مقابلہ کرنے اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ اس وقت گیند امریکہ کے میدان میں ہے اور عالمی رائے عامہ کی توجہ امریکی حکام پر مرکوز ہے کہ وہ کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کی جانب سے ہر قسم کا جارحانہ اقدام ایران کے فوری جواب سے روبرو ہو گا۔ امریکہ کے پاس جنگی بحری بیڑے، عظیم الجثہ بمبار طیارے اور جوہری ہتھیار ہیں جبکہ خطے میں اس کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایران کے خلاف فوجی ٹکراو کا خطرہ مول نہیں لے سکتا کیونکہ ایسی صورت میں خطے میں اس کے تمام فوجی اڈے شدید حملوں کی زد میں ہوں گے۔
عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر عربی اخبار رای الیوم)