
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق بازاری ڈھونڈنے اور اقتصادی سرگرمیاں تیزی سے بڑھتی جارہی ہیں اور اس میں درست طرز سے تبلیغ یا اشتہار پیش کرنے کو اہمیت حاصل ہے۔
اس حوالے سے حلال مارکیٹ میں خوراک اور ڈریسز کے حوالے سے روز نئے انداز میں کسٹمرز کو کھینچنے کی کاوشیں ہوتی ہیں۔
انڈونیشاء میں حلال مصنوعات پر تسلط اور مارکیٹ کو تسلط میں لینے کے حوالے سے اچھی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
دوسری جانب انڈونیشیا میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے اقتصادی ترقی باعث بنی ہے کہ یہاں پر نئے بزنس اور اسٹارٹاپ بنائے جارہے ہیں۔
سال ۲۰۱۸ کے مطابق انڈونیشیاء میں ۹۹۲ اسٹارٹ اپ موجود تھے جو جکارتہ اور مضافات میں کام کررہے تھے اگرچہ Catcha Group و Startup Ranking کے مطابق یہ تعداد ۲۰۰۰ کے لگ بھگ ہے۔
انہیں اسٹارٹ اپ میں سے ایک Evermos ہے کسٹمرز کو تجارتی مارکیٹوں اور مختلف برانڈز کو کسٹمرز تک پہنچاتے یا متعارف کراتے ہیں۔
Evermos نومبر ۲۰۱۸ کو غفران مستقیم (Ghufron Mustaqim)، اقبال مسلمین (Iqbal Muslimin)، الهام توفیق(Ilham Taufiq) اور آریپ تیرتا (Arip Tirta) کی کوشش سے قایم کی گیی۔

اس اسٹارٹ اپ سے یہ موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے آن لاین مارکیٹنگ شروع کی جائے
سال ۲۰۱۹ میں اس اسٹارٹ اپ سے ۸,۵ ملین ڈالر تجارت کی گیی. اور سمتبر ۲۰۲۱، میں کمپنی نے اعلان کیا کہ ۳۰ ملین ڈالر II UOB Venture Management کے تعاون سے کام ہوا ہے۔
Evermos سے جدید چیزیں دریافت یا ڈھونڈنے کا کام لیا جاتا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اس وقت ۱۰۰ هزار دکاندار ۵۰۰ شہروں میں فعال ہیں۔

Evermos، کمپنی کے مطابق نادرست طرز خرید و فروش اور اعتماد کی کمی کی وجہ سے جہاں لوگوں کو غیرمعیاری چیزیں دی جاتی کے سبب اس کو لاونچ کیا گیا ہے، کمپنی مالکان کے مطابق انڈونیشیا میں نوے فیصد مسلمان ہیں اور ہم نے ان کو ٹارگٹ میں رکھا ہے ۔
اسٹارٹ اپ Evermos میں اس وقت کمپنیاں کام کررہی ہیں جنمیں سے اکثر غذا اور ڈریسز سے متعلق ہیں اور کہا جاتا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے اس کاربارو میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔
Evermos کے لیے کسی خاص سرمایہ اور جگہ کی ضرورت نہیں اور تمام سوشل میڈیا واٹس اپ، فیس بک اور دیگر چینلز پر انکی مصنوعات پیش کی جاسکتی ہے۔
مختلف برانڈز اس اسٹارٹ اپ کے زریعے سے مصنوعات بیچنے پر تیس فیصد کمیشن اس کمپنی کو ادا کرتے ہیں اور اس کمپنی کے بڑے افراد کو ماہانہ دو لاکھ ڈالر تک کمیشن ملتا ہے۔/
رپورٹ محمدحسن گودرزی