IQNA

8:20 - December 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3510771
اگر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی کا سبب بھی ہوسکتا ہے۔
ایکنا نیوز کے مطابق جے یو پی (نورانی) جنوبی پنجاب کے رہنمائوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے غیر اسلامی قوانین کا پاس ہونا اور کلبھوشن کی رہائی کو ہموار کرنے کیلئے قانون بنانا اور پاس کرنا باعث تشویش ہی نہیں بلکہ باعث شرم بھی ہے، حکومت نے 33قوانین کو پاس کیا، حکومت اور اپوزیشن کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود ان بلوں کا پاس ہونا سوالیہ نشان ہے۔
 
سوشل میِڈیا کے مطابق جمعیت علمائے پاکستان نورانی جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر محمد ایوب مغل نورانی، صوبائی جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب علامہ محمد شفیق اللہ صدیقی البدری نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے، عوام الناس کے ذہنوں میں یہ بات ازہر ہوچکی ہے کہ ملک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے، ملک افراتفری کا شکار ہے، ان حالات میں حکومت ملک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے گول میز کانفرنس بلائے، جس میں تمام جماعتیں شامل ہوں، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان بھی اس میں موجود ہوں اور تمام جماعتیں مل کر ملک کے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں اور عوام کو کمرتوڑ مہنگائی سے نجات دلوائیں۔ حکومت زبانی حمایت کی بجائے کشمیریوں کی عملی حمایت کرے، اس وقت ملک جس انتشار کا شکار ہے پاکستانی عوام جس ذہنی انتشار کا شکار ہے پاکستان کی 73سالہ تاریخ میں کبھی اتنا انتشار دیکھنے میں نہیں آیا، حکمرانوں کا ملکی مسائل حل کرنے کی بجائے عوام کو مزید مہنگائی کی بات سنانا پاکستانی غریب عوام کی غربت کا مزاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) جنوبی پنجاب کی شوری کے اجلاس میں کیا۔
 
 رہنمائوں نے کہا کہ اگر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی کا سبب بھی ہوسکتا ہے اور عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت کا پہیہ جام کر سکتی ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ سے غیراسلامی قوانین کا پاس ہونا اور کلبوشن کی رہائی کو ہموار کرنے کیلئے قانون بنانا اور پاس کرنا باعث تشویش ہی نہیں بلکہ باعث شرم بھی ہے، حکومت نے 33 قوانین کو پاس کیا حکومت اور اپوزیشن کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود ان بلوں کا پاس ہونا سوالیہ نشان ہے، حکمران چور مچائے شور کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، صوبائی شوری یہ بھی سمجھتی ہے کہ اس وقت مرزائی قادیانی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپہ ہیں، ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہمارا فریضہ اول ہے۔
 
صوبائی شوری نے یہ قرارداد پاس کی کہ قادیانی مرزائیوں کو فوری طور پر کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے اور آئندہ کسی کلیدی عہدے پر کسی مرزائی قادیانی کو نہ لگایا جائے۔ مرزائی کافر ومرتد ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے دشمن ہیں، حکومت اور تمام اداروں کو مرزائیوں کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھنی چاہئیے، بہت سے علاقوں میں سادہ لوح مسلمانوں کو پیسے ونوکری کی لالچ میں مرزائی بنانے کی کوشش ہورہی ہے، جے یو آئی نورانی پاکستان کے قانون اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت نے اگر آئین اور قانون کو بائی پاس کیا تو نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔/
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: