عربی تدریسی مواد میں اسرائیل خوشنودی کے لیے بڑی تبدیلیاں

IQNA

عربی تدریسی مواد میں اسرائیل خوشنودی کے لیے بڑی تبدیلیاں

8:54 - December 12, 2021
خبر کا کوڈ: 3510844
تہران(ایکنا) ایک اسرائیلی تنظیم کے مطابق عربی ممالک میں نصاب کو کورس میں یہودیوں کی مخالفت میں موجود مواد کو تبدیل کیا جائے گا۔

الجزیرہ نیوز کے مطابق صیھونی مفادات کے حوالے سے سرگرم ادارہ جو دنیا بھر میں صیھونی مخالف سرگرمیوں کی نظارت کرتا ہے انکے مطابق عرب دنیا میں تدریسی نصاب کے اندر بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔

 

بعض امریکی-یہودی لابی تنظیمیں جو اسرائیلی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہیں ترقی اور  خوشحالی کے نام پر بچوں کو پڑھانے والے کورس میں تبدیلی کو خوش آیند قرار دے رہی ہیں۔

 

مذکورہ تنظیموں نے بیان میں کہا ہے کہ ایسی تبدیلیاں شدت پسندی سے مقابلے میں معاون ہیں۔ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر فاونڈیشن کے توسط سے چلنے والے اداروں نے پینتالیس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اس کا ذکر کیا ہے۔

 

اسرائیل ڈیفنس آرگنائزیشن نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے جو ناَئن الیون کے بعد سے شدت پسندی سے مقابلے کے لیے کیے گیے عمل کا حصہ ہے۔

 

اس رپورٹ کے مطابق تدریسی مواد میں ایسی تبدیلیوں کا مقصد ایسی نسل کی تربیت کرنا ہے جو مغرب یا اسرائیل سے نفرت کا جذبہ نہ رکھتا ہو۔

 

 

نصابی تبدیلیاں

مذکورہ ادارے نے سال ۲۰۲۰ میں مراکش کی جانب سے سوشیالوجی میں تبدیلی کی تعریف کی جس میں مراکش میں یہودی خدمات کا زکر کیا گیا ہے۔

 

مذکورہ ادارے نے بعض کتابوں میں آیات جہاد کو ختم کرنے کو بھی خوش آیند قرار دیا اور کہا کہ اس سے دہشت گردی بھرتی کرنے کی کوشش کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔

 

رپورٹ میں سعودی بادشاہ کی جانب سے آیات جہاد جہاں اس کو افضل ترین کام کہا گیا ہے انکو ختم کرنے کی کوشش کو بھی قابل تعریف قرار دیا جہاں پر تاکید کی گیی ہے کہ اگر حاکم یا والدین جہاد کی مخالفت کریں تو جہاد سخت ممنوع ہے۔

 

امارات میں دسویں کی کتاب «اخلاق کی تعلیم» میں امارات میں ہندو اور سکھ عبادت خانوں کو ملک کی کثیر الاقوامی کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔

 

اس ادارے نے ایسی تدریسی تبدیلیوں کو سراہتے ہوئے نویں کی کتاب میں مسلمانوں کا یہودی اور عیسائیوں سے محبت کو لازمی قرار دینے کے کو بہترین کاوش قرار دیا ہے۔

 

رپورٹ میں الجزایری درسی مواد میں یورپی استعمار وغیرہ کے استعارے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے امارات کے کورس میں عثمانیوں کے ہاتھوں عربوں کے قتل کے سبق کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔

 

رپورٹ میں بحرین و اردن کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا ہے اور کہا ہے کہ یہاں پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

 

اگلا ہدف

اسرائیل ڈیفنس آرگنائزیشن کے مطابق عربی ممالک کے حالات پر انکی نظر ہے اور اس حوالے سے ان ممالک کی تدریسی نصاب بہت اہم ہے اور ان میں بالخصوص مصر کی بہت اہمیت ہے جہاں طلبا کی تعداد امارات، کویت، قطر اور عمان کے طلبا کی مجموعی تعداد سے بڑھکر ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی بہت سے ایسے مواد موجود ہیں جن کو ختم کرنا ضروری ہے.

 

رپورٹ میں مصری پرائمری اسکول کا حوالہ دیا گیا ہے جسمیں یہودی خیانت کا سبق موجود ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ یہودی خدا اور رسول سے خیانت کے بعد عہد و پیمان نہیں رکھتا۔

 

رپورٹ میں فلسطین پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں کی کتابوں میں ایسے یہودی مخالف کافی مواد موجود ہیں۔

 رپورٹ میں قطر کے حوالے سے بعض کاموں کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے بعض ہولوکاسٹ مخالف فرنچ مصنفوں کے مواد کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

دباو بڑھانے کے گر

امریکی یہودی لابی اس حوالے سے دباو بڑھانے کے کافی روش پر عمل پیرا ہیں۔

 

پہلی روش میں عربی حکام سے نشستوں کا انعقاد ہے جو واشنگٹن کا دورہ کرتا ہے اور پھر امریکی کانگریس کے زریعے سے انکو دباو میں لانا اور اس حوالے سے عالمی اداروں سے بھی کام لینا جنمیں اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی بینک وغیرہ شامل ہیں۔

 

 

اپریل ۲۰۲۰ قاہرہ بین الاقوامی کتب میلہ کے موقع پراس ادارے نے نمایش انتظامیہ کو عربی اور انگریزی کتابوں کی فہرست جاری کی جو  «یہودی مخالف» کتب ہیں اور کہا کہ ان کتابوں کی نمایش کی اجازت نہ دی جائے۔

 

رپورٹ کے مطابق دور امریکہ میں اعلی عربی حکام سے اس حوالے سے کافی نشتیں واشنگٹن میں ہوچکی ہیں۔

 

کیسے اسرائیل کی خدمت کریں؟

 

اس ادارے کے توسط سے اسلامی دنیا میں جمعہ اور دیگر خطبوں کی نظارت کی جاتی ہے اور ان میں تبدیلیوں کے حوالے سے کافی سفارشات کی جاتی ہیں بالخصوص مدارس نصاب میں مغرب مخالف مواد ختم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

 

اس حوالے سے اسرائیل مخالف مواد کو عربی ممالک کے نصاب سے ہٹانے کا ایجنڈا سرفہرست ہے۔

 

رپورٹ میں نقشوں اور درسی مواد میں اسرائیلی نقشے اور کردار کو دوستی کے فروغ کے حوالے سے مثبت انداز میں پیش کرنے کی سفارش کی گیی ہے اور اسرائیل مخالف مواد جنمیں صھیونی شیطانی عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہےانکو اور ہولوکاسٹ کے حوالے سے مواد کو کتب سے ہٹانے پر تاکید کی گیی ہے۔/

4020185

نظرات بینندگان
captcha