
نیوز ایجنسی Independent، کے مطابق مسلم کونسل کی سفارش پر کیے گیے سروے کے مطابق اسلام کے حوالے سے شایع شدہ ساٹھ فیصد مقالوں میں اسلام کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے اور ہر پانچ میں سے ایک مقالہ میں اسلامی کو شدت پسندی سے جوڑا جاتا ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ۴۸ ہزار آن لاین آرٹیکلز اور ۵۵۰ ویڈیو کلپس کو جایزہ لیا گیا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے سال ۲۰۱۸ اور ۲۰۱۹ میں نشر ہوچکی ہیں۔
سروے کی جانب سے ۱۶۲ صفحات پر مشتمل رپورٹ کو سنڈے ٹایمز اور مرر وغیرہ نے قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ حقیقت پر مبنی کوریج ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔
اس سروے میں معلوم ہوا کہ ۵۹ فیصد میڈیا اسلام اور مسلمان کو منفی انداز میں دیکھتا ہے اور انکی تقلید میں دیگر اخبارات اور نیوزادارے منفی تصویر پیش کرتے ہیں۔
آلیسون فیلیپس، جو The Mirror کے ایڈیٹر ہے انکا کہنا تھا: اس رپورٹ میں معلوم ہوا کہ بعنوان صحافی یا لکھاری ہم کس قدر اپنے کردار کا جایزہ لیں اور جرنلسٹوں کو چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ انداز میں ڈیوٹی انجام دیں اور نادرست رپورٹنگ سے اجتناب کریں۔
اِما ٹاکر، ایڈیٹر Sunday Times، کا کہنا تھا: میں اس رپورٹ کی تائید کرتا ہوں تاہم بہت سے کام باقی ہیں۔
اس سروے میں تاکید کی گیی ہے کہ مسلمانوں کو واقعات سے جوڑا نہ جائے، دہشت گردی اور نسل پرستانہ اقدام کی حوصلہ افزائی سے گریز کیا جائے اور منفی میڈیا کوریج روکنے کے حوالے سے اقدام کیا جائے۔/