
ایکنا نیوز- ایام اربعین حسینی کی مناسبت سے « سیدالشهدا(ع) کے ساتھ اجتماعی زندگی» کی نشست جو ماہر علوم قرآن حجتالاسلام سیدجواد بهشتی کی زیر نگرانی ہوئی انکی باتوں پر سیرت امام حسین(ع) پر نظر ڈالتے ہیں۔
انسان کا هدف اور جذبہ، انسان کی شخصیت کو شکل بخشتا ہے. امام حسین(ع) نے کس مقصد کے تحت قیام کیا؟ جواب واضح ہے؛ مکہ و مدینہ میں سات مہینے کے قیام و سفر میں واضح ہوا کہ انکا قیام خدا کے لیے تھا، انہوں نے تمام فیصلوں کو نماز کے ساتھ متصل کیا تھا، وہ اسی حوالے سے وضو کرتا اور نماز کرکے مقصد کو واضح کرتا۔
وہ جب مکہ سے نکلے تو قافلے میں ایک شخص کو بطور موذن مقرر کیا اور وہ راستے میں اذان دیتا تھا، روایت میں ہے کہ نو محرم کو جنگ شروع ہونے والی تھی تاہم امام حسین(ع) نے اپنے بھائی یعنی حضرت ابوالفضل العباس(ع) کو روانہ کیا کہ جنگ کو ایک دن تاخیر میں ڈال دے کیوں؟ کیونکہ امام حسین(ع) فرماتے ہیں: «إِنّی قد کنت أَحِبُّ الصَّلاةَ؛ میں عاشق نماز ہوں... آج زندگی کی آخری رات کو نماز کے ساتھ بسر کرنا چاہتا ہوں.»
صبح یوم عاشور کو امام نے خود آذان دی اور باجماعت نماز ادا کی اور ظہر کے وقت جب ابو ثمامہ نے نماز ظہر کی یاد کرائی تو آپ نے انکا شکریہ ادا کیا اور دشمنوں ک تیروں کے سایے میں نماز ادا کی۔
ہم سب کو جو انکی یاد کرتے ہیں یا اربعین میں پیدل روی کرتے ہیں امام کے اس انداز سے نماز کی اہمیت سمجھنا چاہیے.
رسول گرامی(ص) نماز سے عشق کو ایک اور انداز میں پیش کرتے ہیں جہاں فرماتے ہیں: «جَعَلَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَائُهُ قُرَّةَ عَیْنِی فِی الصَّلوةِ وَ حَبَّبَ اِلَیَّ الصَّلَوةَ کَمَا حَبَّبَ اِلَی الْجَائِعِ الطَّعَامَ وَ اِلَی الظَّمْآنِ الْمَاءَ وَ اِنَّ الْجَائِعَ اِذَا اَکَلَ شَبِعَ وَ اِنَّ الظَّمْآنَ اِذَا شَرِبَ رَوِیَ وَ اَنَا لا اَشْبَعُ مِنَ الصَّلَوةِ؛
خدا نے آنکھوں کی روشنی کو نماز میں قرار دیا ہے اور نماز کے میرے دل کا محبوب بنایا جیسے کھانا اور پانی بھوکے اور پیاسے کو سیرات کرتا ہے، بھوکا کھانا کھا کر سیر ہوتا ہے اور پیاسا پانی سے پیاس مٹاتا ہے مگر کبھی بھی نماز سے میرا دل نہیں بھرتا۔/