
ایکنا نیوز- بصارت سے محروم حافظ کا کہنا تھا: خدا سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پروردگار کیونکہ میرے نابینا ہونے میں تیری مرضی تھی تو میں تیری رضا پہ راضی ہوں؛ میں یہی کہتا ہوں کہ خدایا تو اگر ہزار دروازے بند کرتا ہے تو ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے اور میں اسی ایک دروازے پر راضی ہوں۔
پرهام ایرانپور، ہمدان کے ایک 16 سالہ جوان ہے جو بچپن میں ایک بیماری کے سبب دونوں آنکھوں سے محروم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: میں دو تین سال کی عمر میں ایک بیماری کی وجہ سے اپنی آنکھیں کھو بیٹھا اور اپنی پریشانیوں کی وجہ سے کیموتھراپی کے ذریعے میرا علاج ہوا۔
انھوں نے کہا کہ یہ دشواری مجھے اپنی زندگی سے مایوس نہیں کر سکی۔ میں نے آٹھ سال کی عمر سے قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔ البتہ اس سے پہلے بھی جب میں 6 سال کا تھا تو اپنے والد کے ساتھ قرآن کی چھوٹی چھوٹی سورتوں کو حفظ کرتا تھا اور 6 سال کی عمر کے بعد میں نے حفظ قرآن کو باقاعدہ سنجیدگی سے جاری رکھا۔
اس ہمدانی جوان نے بتایا کہ مجھے پورا قرآن حفظ کرنے میں سات سال لگے۔ انھوں نے کہا کہ حفظ قرآن کے طولانی ہونے کے پیچھے میری بیماری اور دوسری مشکلات تھیں۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ میں نے حفظ قرآن کو مکمل کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ قرآن کی برکت کی وجہ سے ہے اور یہ کہ میری نظر میں معذور ہونے سے محدودیت نہیں آتی ہے اور آج ہم سب کا فرض ہے کہ اسلام ، قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے راستے پر چلتے رہیں۔ اور یہی سربلندی و سعادت کا راستہ ہے۔
انھوں نے مختلف میدانوں میں معذوروں سے استفادہ کرنے کے لئے ماحول سازی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں اکثر تلاوت سن کر حفظ کرتا ہوں اور کبھی کبھی بریل یعنی ابھرے حرفوں کے ذریعہ بھی حفظ کرتا ہوں اور روزانہ اسے دہراتا ہوں۔ قرآن کی عجیب و غریب حقیقت ہے اور ہم صرف اس کے ظاہر کو دیکھتے ہیں، حفظ قرآن کی برکت سے میرے حافظہ میں ہر چیز باقی رہتی ہے۔ میں آج خدا کے اور تلاوت قرآن کے عشق میں مبتلا ہوں اور مجھے اپنی نابینائی سے کوئی پریشانی نہیں ہے؛ میں خدا سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پروردگار کیونکہ میرے نابینا ہونے میں تیری مرضی تھی تو میں تیری رضا پہ راضی ہوں؛ میں یہی کہتا ہوں کہ خدایا تو اگر ہزار دروازے بند کرتا ہے تو ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے اور میں اسی ایک دروازے پر راضی ہوں۔.