
ایکنا- عربی 21 نیوز کے مطابق امارات نے بین المذاہب ڈائیلاگ کے دعوے کے ساتھ مرکز قایم کیا ہے جس میں مسجد کے ہمراہ ایک یہودی عبادت خانہ کنیسہ بھی قایم ہے جس پر لوگوں نے مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے۔
امارات نے سال 2020 سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنا شروع کردیا ہے اور یہاں پر یہودی کیمونٹی کی آمد ورفت جاری ہے۔
مرکز خاندان ادیان ابراهیمی (بیت العائله الابراهیمیه) اپنی نوعیت کا واحد مرکز ہے جہاں تین عبادت خانے یکجا موجود ہیں۔
اس میں مسجد احمد الطیب امام الازهر، پاپ فرانسیس کلیسا اور کنیسه ابن میمون کے نام سے قایم ہے۔
ادارہ ثقافت و سیاحت کے محمد خلیفه المبارک کا اس بارے کہنا تھا: یہ مرکز بین الاقوامی مذاہب ڈائیلاگ اور بقائے باہمی کے لیے بنایا گیا ہے۔
انکا کہنا تھا: یہاں آنے والے سیاحوں کو اس مرکز میں آنے اور عبادت خانوں کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
اس مرکز کے قیام پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، ایک صارف ابو عبدالخالق اسماعیل نے ٹوئٹ کیا ہے: خانہ شر کا قیام اور مذہبی مرکز کی تخریب. اپنی اصلاح کرو، کس دین کے ماننے والے ہو!؟
بنت الاسلام نامی خاتون لکھتی ہے: جب باطل کی ترویج کروگے اور خدا اور اسکے رسول کا انکار کروگے تو ایسے ہی بنو گے۔
ایک اور صارف نے اس کو بین المذاہب ڈائیلاگ اور مذاہب میں ایک پل قرار دیا ہے۔
اور صارف کا کہنا تھا: امارات کے زندانوں میں بے شمار قیدی موجود ہیں تم اپوزیشن پارٹی کی اجازت نہیں دیتے، تم چاہتے ہو مسلمان تمھاری پیروی کرکے کافر بن جایے، ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی، وہ سچا مسلمان تھا نہ کہ مشرک۔
ایک اور صارف لکھتا ہے: ہر دین کا اپنا قانون ہوتا ہے اگر اس مرکز سے تم چاہتے ہو کہ ہم اپنی اقدار سے پیچھے ہٹ جائے تو یہ سازش ناکام ہوگی۔
تین عبادت خانوں کو ایک سایز کے بنائے گیے ہیں جب کہ ایک اور یہودی عبادت خانہ خلیج فارس کےبحرینی علاقے میں بنایا گیا ہے جہاں کچھ یہودی آباد ہے۔
انجمن یہودی نے امارات میں کنیسہ کے قیام پر امارات کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انجمن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس میں کنیسہ دیکھ کر ہم بے تحاشا خوشی محسوس کرتے ہیں۔
امارات کے بادشاہ محمد بن زاید نے ٹوئٹ کیا تھا: مرکز ادیان ابراہیمی بقائے باہمی اور ڈائیلاگ مرکز ہے جو مذاہب میں پل کا کردار ادا کرے گا ،اس پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔/




4122876