
ایکنا- الجزیرہ نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو دو مسلمانوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے جن پر گائے کے اسمگلنگ کا الزام لگا کر جلایا گیا تھا۔
دو مسلمانوں کی جلی ہوئی لاشیں گذشتہ روز ہریانہ (شمالی هندوستان)، میں برآمد ہوئی تھی جنکو ایک دن قبل اغوا کیا گیا تھا۔
راجھستان کے وزیراعلی آشوک جیلو نے ٹوئٹ میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہویے ملزمان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
راجھستان کے ان دو مسلمان کے فیملیز نے پولیس کو شکایت میں شدت پسند پارٹی (باجرانگ دل ) کے پانچ آدمیوں کے نام دیے ہیں۔
پولیس افیسر شیام سینگ کا کہنا تھا: ہم تحقیقات کررہے ہیں اور ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گرفتار شخص ٹیکسی ڈرائیؤر ہے جو گائے کی نگہبان کمیٹٰی کا ممبر بھی ہے۔
سال ۲۰۱۴ میں مودی حکومت کے بعد شدت پسندی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور ہندو شدت پسند افراد مختلف علاقوں میں گشت کرکے گائے لانے یا لیجانے کی نظارت کررہے ہیں۔
مسلم کیمونٹی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت جان بوجھ کر شدت پسندی کے برابر غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔
راجھستان اور ہریانہ ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں گایے زبح کرنا ممنوع ہے اور گائے لیجانے والوں کا لائسنس اور اجازت نامہ چیک کیا جاتا ہے۔/
4122956