ایکنا تھران: عصر حاضر اور صدیوں سال گذشتہ میں کافی باتیں لکھی اور بولی جاچکی ہیں تاہم قرآن جو تئیس سال میں نازل ہوا ہے اپنے کلام کو سنگین کلام توصیف کرتا ہے۔

ایکنا نیوز- سورہ مزمل کی ابتدائی آیات میں خدا کے کلام کی سنجیدگی اور سنگینی کی بات ہوئی ہیں، آیت 5 میں اس طرح سے بیان ہوتا ہے:« إِنَّا سَنُلْقي عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقيلا ؛ کیونکہ جلد ہم تم سنگین کلام القا کریں گے!»(مزمل:5)
علامه طباطبایی تفسیر المیزان میں اس بارے ذیل کی نکات پیش کرتے ہیں:
بعض اوقاف قرآن کی سنگینی آپ کے چہرے سے واضح ہوجاتے اور لوگ واضح دیکھتے۔
امام علی (ع) اس حوالے سے فرماتے ہیں: جب سوره مائده نازل ہوا، رسول گرامی اونٹ پر سوار تھے وحی کی وجہ سے اونٹ رک کیا اور انکی کمر خم ہوئی یہانتک کہ قریب تھا کہ اونٹ کی پیٹ زمین سے جالگتے۔
اس آیت میں ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور یہ ہے کہ قرآن میں ہدایت کے حوالے سے کوئی کمی نہیں تاہم اگر کوئی ہدایت نہیں ہوتے، تو یہ اسکی کمزوری ہے.
اس راستے میں کانٹے بچھائے گیے، آپ پر گندگیاں ڈالی گیی اور اس قدر اذیت دی گیی کہ آپ نے فرمایا: « ما اوذی نبی مثل ما اوذیت ؛ کسی پیغمبر کو میری طرح اذیت نہ دی گیی.»