
ایکنا نیوز، الرسانہ نیٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پورے دو برس کے دوران غزہ کی پٹی کے مسیحیوں نے خود کو جدید فلسطینی تاریخ کے سب سے وحشیانہ انسانی بحران کا لازمی حصہ پایا ہے۔ ان کے اردگرد کے تمام محلّے منہدم ہو چکے ہیں، گرجا گھر، اسکول اور سماجی مراکز ملبے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ ان کے گھروں میں سے اب صرف کہانیاں اور وہ ثابت قدمی باقی رہ گئی ہے جو ان کے دلوں میں محفوظ ہے۔
مسیحی، غزہ کی ثقافتی اور انسانی شناخت کا حصہ اگرچہ مسیحی غزہ کی پٹی میں آبادی کے لحاظ سے ایک نہایت چھوٹا گروہ ہیں، تاہم انہیں پہنچنے والا نقصان حیران کن اور بے مثال ہے۔ ان کے تقریباً 80 فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں اور ان کی وہ تاریخی موجودگی، جو دہائیوں سے غزہ کی ثقافتی اور انسانی شناخت کا ایک اہم پہلو رہی ہے، براہِ راست نشانے پر رہی ہے۔
اس وسیع تباہی کے دوران، آج غزہ کے مسیحی ایک دوہری المیے کا سامنا کر رہے ہیں: ایک طرف عزیزوں، مقدس مقامات اور گھروں کا نقصان، اور دوسری طرف وہ ثابت قدمی جو جنگ کے باوجود اپنی سرزمین، شناخت اور مذہبی رسومات سے وابستگی میں جھلکتی ہے۔ ان کا یقین ہے کہ غزہ میں ان کی موجودگی محض عددی نہیں بلکہ ایک انسانی اور قومی مشن ہے۔
محاصرے، تنہائی، سفر پر پابندیوں اور بنیادی ضروریات سے محرومی کے باعث پیدا ہونے والی اذیت کے باوجود، غزہ کی مسیحی برادری کے افراد سماجی ڈھانچے کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور ایسے وقت میں امید کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں جب قابض قوتیں زندگی سے وابستہ ہر چیز کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ دو طویل برسوں کی تاریکی کی داستان ہے جسے غزہ کے مسیحی بوجھل دلوں مگر مضبوط عزم کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔
سرزمینِ مقدس میں مسیحیوں کی قومی اسمبلی کے سربراہ، دیمیتری دلیانی نے کہا کہ اس سال کرسمس ایسے وقت میں آیا ہے جب فلسطین، غزہ کی پٹی میں تقریباً 800 دن کی نسلکشی کے بعد، اپنی تاریخ کے سب سے سخت اور بے رحم مراحل میں سے ایک سے گزر رہا ہے؛ جہاں مسلسل بمباری جاری ہے اور محلے، عبادت گاہیں، اسپتال اور انسانی فلاحی ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔
کرسمس؛ صبر اور ثابت قدمی کا جشن انہوں نے مزید کہا: اس سال کرسمس، خوشی کے جشن سے بڑھ کر، مزاحمت اور ثابت قدمی کا جشن ہے۔/
4326097