مسلم فوبیا سے شدت پسندی میں اضافہ ہوسکتا ہے

IQNA

نگران تنظیم الازهر:

مسلم فوبیا سے شدت پسندی میں اضافہ ہوسکتا ہے

12:49 - January 05, 2026
خبر کا کوڈ: 3519752
ایکنا: الازہر کے انسدادِ انتہاپسندی کے نگران ادارے نے آسٹریلیا میں اسلاموفوبیا میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ انتہاپسندوں کے جرائم کے مقابلے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے قابلِ مذمت ہے اور اس سے تشدد کے دائرے میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

ایکنا نیوز، صدی البلد کے حوالے سے الازہر کے انسدادِ انتہاپسندی کے نگران ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کی مسلم برادری شدید خوف اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اسلاموفوبیا پر مبنی دھمکیوں میں نمایاں اضافے کے بعد، 14 دسمبر کو بونڈی میں ہونے والے دہشت گرد حملے (یہودیوں کے تہوار ’’حنوکا‘‘ کی تقریب پر حملہ) کے بعد بعض مسلمان اپنی حفاظت کے لیے مساجد میں ہی رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے نفرت پر مبنی واقعات میں 200 فیصد اضافے کو ریکارڈ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کئی مساجد خصوصاً سڈنی کے جنوب مغرب میں واقع ’’منٹو مسجد‘‘ نے اپنی حفاظتی تدابیر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مسلم اقلیتی برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ براہِ راست دھمکیاں موصول ہونے کے بعد، وہ جان و مال کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر عبادت گاہوں کے اندر ہی قیام کر رہے ہیں۔

سلیمہ یمر، البانوی ـ آسٹریلوی مسلم ایسوسی ایشن کی خواتین کمیٹی کی سربراہ نے کہا کہ خدشات محض زبانی توہین تک محدود نہیں بلکہ 2019 میں کرائسٹ چرچ میں ہونے والے قتلِ عام جیسے پرتشدد حملوں کے خوف تک پھیل چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملبورن میں واقع البانوی مسلمانوں کی مسجد کو سائبر حملوں اور نفرت انگیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں مسلمانوں سے معاشرے کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، جو منظم اشتعال انگیزی اور کشیدگی پیدا کرنے کی واضح علامت ہے۔

اسی تناظر میں، آسٹریلیا کی نیشنل کونسل آف امامز نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق بونڈی حملے کے بعد نفرت انگیز واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور کم از کم 9 اسلامی مراکز نے تخریبی کارروائیوں یا سیکیورٹی واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں پولیس کی مداخلت ضروری پڑی۔

الازہر کے انسدادِ انتہاپسندی کے نگران ادارے نے نفرت انگیز تقاریر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سماجی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ انتہاپسندوں کے جرائم کے مقابلے کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانا اخلاقی اور قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے اور اس سے تشدد کا چکر مزید تیز ہوتا ہے، بالخصوص اس لیے کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام کی نمائندہ نہیں ہیں اور ان کے اعمال کو دین سے جوڑنا ایک دانستہ تحریف ہے جو انتہاپسندانہ مقاصد کی خدمت کرتی ہے۔/

 

4326812

نظرات بینندگان
captcha