
ایکنا نیوز- عربی 21 نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 1447 ہجری قمری (2026ء) کے حج سیزن کے قریب آتے ہی سعودی حکام ’’بغیر اجازت نامے کے حج ممنوع ہے‘‘ کے نعرے کے تحت سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں۔
یہ اقدامات بڑے ہجوم کو منظم کرنے، لاکھوں عازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور متوقع سخت موسمی حالات کے پیش نظر صحت و سلامتی کے خطرات سے بچاؤ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب نے ایک جامع پالیسی اختیار کی ہے جس کے تحت صحت اور عمر سے متعلق پابندیوں کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات میں داخلے کے لیے سرکاری اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ قوانین اپریل 2026ء سے نافذ کیے گئے ہیں، جن کے مطابق مکہ مکرمہ میں داخلہ یا قیام صرف درج ذیل افراد تک محدود ہوگا:
وہ افراد جن کے پاس پلیٹ فارم نسک (Nusuk) کے ذریعے جاری کردہ سرکاری حج اجازت نامہ موجود ہو۔
مکہ مکرمہ میں رہائش کا اجازت نامہ رکھنے والے افراد۔
مقدس مقامات میں الیکٹرانک ورک پرمٹ رکھنے والے افراد۔
اسی طرح سیاحتی، عمرہ یا کسی بھی دوسری قسم کے وزٹ ویزا رکھنے والوں کو مقررہ مدت (حج سیزن کے اختتام تک) کے دوران مملکت میں داخلے یا قیام سے منع کر دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں عمرہ ویزوں کے اجرا کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ نے خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی ہیں، جن میں بغیر اجازت حج ادا کرنے یا ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے والوں کے لیے 20 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ شامل ہے۔
یہ سزائیں ان رہائشیوں پر فوری بے دخلی اور 10 سال تک مملکت میں داخلے پر پابندی بھی عائد کرتی ہیں جو قوانین کی خلاف ورزی کریں گے۔ اسی طرح خلاف ورزی کرنے والوں کی مدد، انہیں پناہ دینے، منتقل کرنے یا ایسے افراد کے لیے ویزا درخواست دینے والوں پر 100 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد ماضی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور آمد و رفت کو بہتر انداز میں منظم کرنا بتایا گیا ہے۔
مزید برآں سعودی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ دستاویز ’’حجاج 1447 ہجری/2026ء کے لیے صحت سے متعلق ضروریات اور سفارشات‘‘ کے تحت طبی اور صحت کے شعبے میں بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن کے مطابق بعض بیماریوں میں مبتلا افراد کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حج کے تجربے کو بہتر بنانے، حفاظتی اور انتظامی معیار کو بلند کرنے اور مراسم حج کے دوران صحت و لاجسٹک امور پر خصوصی توجہ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔/
4353220