
ایکنا نیوز- آستانہ مقدس حسینی کی ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آستان مقدس علوی کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور نے، متولی آستان سید عیسیٰ الخرسان کی نگرانی میں، نہج البلاغہ کے ایک گنجینہ نما اور شاہکار نسخے کی کتابت کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کو عالمِ اسلام میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد اقدام قرار دیا گیا ہے۔
شعبۂ فکری و ثقافتی امور کے سربراہ کرار جاسب نے آستان کے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے نے امیرالمؤمنین حضرت امام علیؑ سے منقول عظیم علمی و ادبی شاہکار "نہج البلاغہ" کے ایک قیمتی اور یادگاری نسخے کی تیاری کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ ان خصوصی علمی و اشاعتی سرگرمیوں کا حصہ ہے جن میں فنّی اصالت کو عصر حاضر کے تقاضوں اور قارئین کے ذوق کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا نسخہ ایک غیرمعمولی اور ممتاز منصوبہ ہے جسے اس درجے کی ترتیب، دقت اور اہتمام کے ساتھ اس سے قبل کبھی انجام نہیں دیا گیا۔
کرار جاسب نے یاد دلایا کہ آستان مقدس علوی گزشتہ برسوں میں نہج البلاغہ کی خدمت کے لیے متعدد علمی اقدامات انجام دے چکا ہے، جن میں تحقیق، تالیف اور تخصصی فہرستوں کی تدوین شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے کا مقصد نہج البلاغہ کا ایسا نفیس اور شاہانہ نسخہ پیش کرنا ہے جو جدید دور کے ذوق سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی ورثے کی اصالت کو بھی محفوظ رکھے۔ ان کے مطابق یہ پہلا نسخہ ہے جو براہِ راست آستان مقدس علوی کی نگرانی اور خصوصی توجہ کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔
آستان کے خطاط حازم الحلو نے بتایا کہ اس منصوبے میں مخطوطات کی روایتی اور مستند کتابت کے طریقوں کو اختیار کیا جائے گا۔ کاغذ، سیاہی، قلم اور آرائشی مواد سب قدرتی اور خصوصی معیار کے مطابق منتخب کیے جائیں گے تاکہ یہ نسخہ قرآنِ کریم اور دیگر نفیس مخطوطات کی کتابت میں استعمال ہونے والے قدیم خوش نویسی کے مکاتب اور روایات سے مکمل ہم آہنگ ہو۔
تین جلدوں پر مشتمل نسخہ
حازم الحلو نے مزید وضاحت کی کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تقریباً ایک سال کا عرصہ لگے گا اور اس میں آستان مقدس علوی کے ممتاز ترین خطاط شریک ہوں گے۔ یہ شاہکار تین جلدوں میں مرتب کیا جائے گا، جیسا کہ قدیم اور مستند مخطوطات میں رائج تھا جو معتبر مکاتبِ خوش نویسی کے اصولوں کے مطابق تیار کیے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر صفحے پر 14 سطریں تحریر کی جائیں گی، اور یہ تعداد چودہ معصومینؑ کے ناموں کی نسبت اور تبرک کے طور پر منتخب کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نہج البلاغہ اسلامی ورثے کے اہم ترین فکری، ادبی اور معرفتی مصادر میں شمار ہوتی ہے، جس میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے خطبات، خطوط اور حکمت آموز اقوال جمع کیے گئے ہیں۔ اسی بنا پر آستان مقدس علوی کی سرپرستی میں اس نفیس نسخے کی تیاری علمی، ثقافتی اور دینی اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔/
4357862