کربلاء ایوارڈ میں دوسری پوزیشن کے حامل قاری

IQNA

کربلاء ایوارڈ میں دوسری پوزیشن کے حامل قاری

7:54 - June 21, 2026
خبر کا کوڈ: 3520349
ایکنا: ایران کی کامیابی ملک میں حفظ و تلاوتِ قرآن کے اعلی مقام کا نتیجہ ہے۔

پانچویں بین الاقوامی قرآنی مقابلہ "کربلاء ایوارڈ" میں قراتِ تحقیق کے شعبے میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے سید امید حسینی نژاد نے کہا ہے کہ ایرانی قرآنی قافلے کی کامیابی کا راز ملک کے نمائندوں کے وسیع تجربے اور فنی پختگی میں مضمر ہے۔ ان کے بقول ایرانی قراء بین الاقوامی میدان میں قدم رکھنے سے قبل مختلف قومی سطح کے مقابلوں سے گزر کر مطلوبہ مہارت حاصل کر لیتے ہیں، اسی لیے وہ ہر عالمی مقابلے میں اعلیٰ پوزیشنوں کے مضبوط امیدوار شمار ہوتے ہیں۔

ایکنا نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے سید امید حسینی نژاد نے اس قرآنی مقابلے کے انتظامی معیار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلہ اب اپنے پانچویں دور میں داخل ہو چکا ہے اور بتدریج بین الاقوامی سطح پر ایک معروف اور معتبر قرآنی مقابلے کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار کی طرح اس سال بھی ممتاز اور اعلیٰ معیار کے قراء نے شرکت کی۔

انہوں نے قراتِ تحقیق کے شعبے میں شریک مقابلہ جات کے اعلیٰ معیار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کے روضۂ مبارک کے قاری عبداللہ زہیری، جنہوں نے اس مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی، نہایت باصلاحیت اور منفرد طرز کے قاری ہیں۔ اسی طرح افغانستان کے نمائندے اور ایران کے یوسف جعفرزادہ بھی اعلیٰ فنی صلاحیتوں کے حامل تھے، جس کے باعث مقابلہ انتہائی پیشہ ورانہ اور معیاری ماحول میں منعقد ہوا۔

حسینی نژاد نے جیوری کے بارے میں کہا کہ اس سال کے جج حضرات عالمِ اسلام کی معروف اور ممتاز شخصیات میں شامل تھے۔ ان میں استاد طلال، استاد طاروطی اور استاد یحییٰ صحاف جیسے نام شامل ہیں، جنہیں مختلف بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں فیصلہ سازی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے مقابلے کا علمی اور فنی معیار بھی نہایت بلند تھا۔

انہوں نے کہا کہ روضۂ امام حسینؑ میں قرآن کریم کی تلاوت قاری پر گہرے روحانی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان کے بقول مقابلے کے انعقاد کے لیے یہ مقام انتہائی بابرکت، مؤثر اور مثالی تھا، اور اس سے بہتر ماحول کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

ایرانی قافلے کی کامیابی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قراء بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے پہلے ملکی سطح پر مختلف مراحل اور سخت مقابلوں سے گزرتے ہیں، جس سے ان کی فنی پختگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی سطح پر ہمیشہ نمایاں امیدواروں میں شمار ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ججوں اور منتظمین کے لیے بھی کسی حد تک مسلم ہے۔

سید امید حسینی نژاد نے گفتگو کے اختتام پر علاقائی صورتحال کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک خصوصاً لبنان اور بعض افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے خطے کے مظلوم عوام کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد شرکاء ایرانی نمائندوں سے ملاقات کے دوران ایران کی قوت اور اثر و رسوخ کا ذکر کرتے تھے اور اس حوالے سے دلچسپ اور مثبت تاثرات کا اظہار کرتے تھے۔/

 

4358162

نظرات بینندگان
captcha