ایکنا نیوز- سعودی سرکاری خبررساں ایجننسی (واس) نے رپورٹ کیا ہے کہ کعبہ معظمہ کی سالانہ غسل کی تقریب گذشتہ دنوں (منگل) کو مکہ مکرمہ کے نائب گورنر کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
نائب گورنر نے مسجد الحرام میں داخل ہونے کے بعد آبِ زمزم اور عرقِ گلاب کے آمیزے سے کعبہ معظمہ کے اندرونی حصے کو دھویا اور اسی محلول میں تر کیے گئے کپڑے کے ذریعے کعبہ کی اندرونی دیواروں کی تطہیر کی۔
کعبہ شریف کی دھلائی اور تطہیر کی یہ سالانہ روایت، بیت اللہ الحرام کی تعظیم، نگہداشت اور خدمت کے مقصد سے بانیٔ مملکت سعودی عرب کنگ بعدالعزیز آل سعود کے دور سے آج تک مسلسل جاری ہے۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل اتھارٹی نے تصدیق کی کہ سعودی عرب نے کعبہ شریف کی دھلائی کے لیے اپنی تمام فنی، خدماتی اور افرادی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ اس مقصد کے لیے فنی و انجینئرنگ عملے کی مدد سے کعبہ کی مخصوص سیڑھی بھی نصب کی گئی۔
ادارے کے مطابق تیاریوں کا آغاز 15 لیٹر آبِ زمزم، 15 لیٹر عرقِ گلاب، 15 لیٹر روغنِ گلِ سرخ اور 100 ملی لیٹر عود کے تیل کے استعمال سے کیا گیا، جس کے بعد سالانہ روایتی طریقہ کار کے مطابق غسلِ کعبہ کی کارروائی انجام دی گئی۔

غسلِ کعبہ کی تقریب کا آغاز سب سے پہلے کعبہ شریف کے فرش کو گرد و غبار اور آلودگی سے صاف کرنے سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد تانبے کے خصوصی برتن لائے جاتے ہیں جن میں آبِ زمزم کو عرقِ گلاب، عمدہ عود اور خوشبودار روغن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔
اس خوشبودار محلول میں کپڑوں کو تر کر کے کعبہ معظمہ کی اندرونی دیواروں کو صاف کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں کعبہ کے اندر موجود تین ستونوں اور فرش کو دھو کر خشک کیا جاتا ہے۔ آخر میں جدید ذرائع سے دیواروں اور اندرونی حصوں کو خوشبوؤں سے معطر کیا جاتا ہے تاکہ پورا مقدس مقام پاکیزگی اور خوشبو سے مہک اٹھے۔

واضح رہے کہ ’’غسلِ کعبہ‘‘ یعنی خانہ کعبہ کی دھلائی اور معطر سازی کی یہ سالانہ تقریب، کعبہ کے غلاف (کسوہ) کی تبدیلی کی تقریب سے مختلف ہے۔ غلافِ کعبہ ہر سال نئے ہجری سال کے آغاز پر تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ غسلِ کعبہ ایک الگ اور مستقل مذہبی روایت ہے۔/
4361250