ایکنا نیوز- شفقنا عربی کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ نایاب مخطوطہ بھارت کے وسطی آسام کے ضلع کامروپ کی ایک مسجد میں محفوظ ہے۔ مقامی لوگ اسے صرف ایک قدیم قرآنِ مجید نہیں سمجھتے بلکہ یہ ان کے نزدیک سماجی اور ثقافتی رشتوں کی علامت ہے، جس نے اس علاقے کی کئی نسلوں کو باہمی اتحاد میں باندھے رکھا ہے۔
آسام کے مقامی باشندوں کے مطابق یہ مخطوطہ تقریباً 1770ء میں دریافت ہوا، جب شیخ داہی بید نے ایک خواب دیکھا جس میں انہیں بتایا گیا کہ قرآنِ کریم کا ایک مقدس نسخہ ان کے قریب واقع جنگل کے ایک مخصوص مقام پر دفن ہے۔ جب انہوں نے گاؤں والوں کو اس بارے میں آگاہ کیا تو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے تلاش اور کھدائی میں حصہ لیا، جس کے نتیجے میں ایک پرانا لکڑی کا صندوق ملا جس میں ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ کریم، چند تاریخی نوادرات اور قدیم سکے موجود تھے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس مخطوطے کا ایک مشہور مندر کے قریب سے ملنا اس واقعے کو ایک علامتی حیثیت عطا کرتا ہے اور آسام میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام اور بقائے باہمی کی قدیم روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس قدیم قرآن کی دریافت کے بعد سے یہ مخطوطہ انتہائی احتیاط کے ساتھ مسجد میں محفوظ رکھا گیا ہے، اور ہر جمعہ نمازِ جمعہ کے بعد زائرین اور نمازیوں کی زیارت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد اس منفرد تاریخی ورثے کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں، جو بھارتی ریاست آسام کی مشترکہ ثقافتی یادداشت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔
4367320