ایکنا نیوز- اطلاعات کے مطابق یہ مقابلہ اسلامی یونین آف نارتھ مقدونیہ کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں بالکان ممالک سے تعلق رکھنے والے 29 ممالک سے 200 مرد و خواتین شریک ہیں۔ شرکاء پانچ مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔
اس مقابلے کے انعقاد پر 20 لاکھ سعودی ریال خرچ کیے جائیں گے۔ یہ پروگرام سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی قرآنِ کریم کی خدمت اور اس کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزارت کے مطابق اس مقابلے کے اہم مقاصد میں حفاظِ قرآن کی حوصلہ افزائی، حفظ، تلاوت اور تجویدِ قرآن میں مسابقتی جذبے کو فروغ دینا، اور دنیا بھر کے اسلامی اداروں کے ساتھ روابط اور تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس موقع پر شمالی مقدونیہ کے مفتیٔ اعظم اور اسلامی یونین کے سربراہ شیخ شاکر فاتحو، مختلف علماء، مفتیانِ کرام، اسلامی و تعلیمی اداروں کے سربراہان، ججوں کے پینل کے ارکان، مقابلے کے شرکاء اور متعدد ممتاز اسلامی شخصیات شریک ہوئیں۔
بوسنیا و ہرزگوینا میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے دینی اتاشی شیخ عبداللطیف بن حسین الحسین، جو شمالی مقدونیہ میں بھی سعودی وزارتِ اسلامی امور کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب قرآنِ کریم کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اسے اپنی طرزِ زندگی کا حصہ بنا چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت نے قرآنِ کریم کی تعلیم کے فروغ کے لیے مدارس، حفظِ قرآن کے حلقوں، تعلیمی اداروں، جامعات اور خصوصی مراکز کے ذریعے وسیع پیمانے پر خدمات انجام دی ہیں، جبکہ مدینہ منورہ میں شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس جیسے ممتاز قرآنی ادارے بھی قائم کیے ہیں۔
شیخ الحسین نے والدین کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو قرآنِ کریم حفظ کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے شرکاء کو نصیحت کی کہ اپنی نیت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے رکھیں اور قرآنِ کریم کو ہمیشہ اپنی زندگی کا رہنما بنائیں۔
بعد ازاں شمالی مقدونیہ کے مفتیٔ اعظم اور اسلامی یونین کے صدر شیخ شاکر فاتحو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مقابلے صرف حفظ اور تلاوت تک محدود نہیں، بلکہ ایک روحانی، فکری اور ثقافتی اجتماع ہیں، جو مسلمانوں کو قرآنِ کریم کے محور پر متحد کرتے اور بھائی چارے، باہمی تعاون اور انسانوں کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دیتے ہیں۔/
4366251