اسلامک اسٹڈی اور بین المذاہب ڈائیلاگ میں «اسپوزیتو» کی کاوش

IQNA

لاہور یونیورسٹی استاد؛

اسلامک اسٹڈی اور بین المذاہب ڈائیلاگ میں «اسپوزیتو» کی کاوش

10:20 - July 28, 2026
خبر کا کوڈ: 3520511
1
ایکنا: لاہور یونیورسٹی کے پروفیسر نے لکھا ہے کہ جان اسپوزیٹو نے اسلامی مطالعات کو فروغ دینے، بین المذاہب مکالمے کو مضبوط بنانے اور نسل در نسل چلے آنے والے تعصبات کو چیلنج کرنے کے ذریعے عصرِ حاضر کے مؤثر ترین مفکرین میں ایک دائمی مقام حاصل کیا۔

ایکنا نیوز- اطلاعات کے مطابق، مغرب میں اسلامی مطالعات کے ممتاز محقق جان اسپوزیٹو 15 جولائی کو 86 برس کی عمر میں دل کی سرجری کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئے۔

اسپوزیٹو، جنہیں غیر مسلم اسلام شناسوں میں نمایاں مقام حاصل تھا، نے اپنی علمی زندگی کے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے کو اسلام، مسلم معاشروں اور اسلام و مغرب کے تعلقات کے مطالعے کے لیے وقف کیا۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکہ کی جامعات میں جدید اسلامی مطالعات کی تشکیل اور فروغ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

اسی حوالے سے لاہور یونیورسٹی کے پروفیسر طاہر کامران نے پاکستانی اخبار The News میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ جان اسپوزیٹو نے اپنی پوری علمی زندگی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ تحقیق، سب سے بڑھ کر، معاشرے کی خدمت کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان بداعتمادی اور غلط فہمی کی دیواریں بلند کر رہے تھے، اسپوزیٹو نے علم اور مکالمے کی بنیاد پر باہمی تفہیم کے پل تعمیر کیے۔ انہوں نے خوف کی جگہ آگہی، تعصبات کی جگہ علمی تحقیق اور دشمنی کی جگہ مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اسپوزیٹو ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ باہمی احترام صرف صحیح علم اور شعور کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

طاہر کامران نے مزید کہا کہ اسپوزیٹو نے نہ صرف ایک بے مثال علمی سرمایہ چھوڑا بلکہ اخلاقی وابستگی اور دیانت داری کی ایک پائیدار مثال بھی قائم کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کسی مذہب کے معتبر ترین مفسر اور محقق بننے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان اسی مذہب کا پیروکار ہو۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی دکھایا کہ تحقیق اختلاف اور تقسیم پیدا کرنے کے بجائے ہم آہنگی اور باہمی تفہیم کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور ایک حقیقی مفکر کا اعلیٰ ترین مشن صرف علم جمع کرنا نہیں بلکہ انسانوں میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے اسلامی مطالعات کے فروغ، بین المذاہب مکالمے کی تقویت اور موروثی تعصبات کو علمی بنیادوں پر چیلنج کرنے کے ذریعے عصرِ حاضر کے مؤثر ترین مفکرین میں ایک نمایاں اور دیرپا مقام حاصل کیا۔/

 

4366220

نظرات بینندگان
captcha