ایکنا نیوز- انادولو کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ دو سال قبل تہران میں صہیونی حکومت کے حملے میں شہید ہونے والے حماس کے سابق سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کے صاحبزادے عبدالسلام ہنیہ نے اپنے والد کی زندگی، کردار اور طرزِ حیات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
خاندان کے 75 سے زائد افراد شہید ہوئے
عبدالسلام ہنیہ نے انادولو نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی پٹی پر صہیونی جارحیت کے دوران ان کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے 75 سے زائد افراد جبکہ آلِ حاج قبیلے کے 250 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے اپنے گھر کی دیوار پر آویزاں ایک بڑے خاندانی پورٹریٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جنگ میں شہید ہونے والے اپنے عزیزوں کو یاد کیا۔ انہوں نے اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں محمد، حازم اور امیر کی تصاویر بھی دکھائیں، جو 10 اپریل 2024 کو عیدالفطر کے پہلے روز صہیونی حملے میں اپنے کئی بچوں سمیت شہید ہوئے تھے۔
وہ استاد تھے اور شفیق باپ بھی
عبدالسلام ہنیہ نے اپنے والد کو ایک ایسی شخصیت قرار دیا جس میں باپ، مربی، رہنما اور دوست کی تمام خوبیاں جمع تھیں۔
انہوں نے کہا: "گھر میں میرے والد استاد، رہنما، قائد، شفیق باپ اور ایک بہترین دوست تھے۔"
انہوں نے مزید کہا: مجھے ان کی خوبصورت آواز، ان کی محبت بھری موجودگی، ان سے ملاقاتیں اور گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کی محفلیں بہت یاد آتی ہیں۔
عوام سے جڑے رہنے کی نصیحت
عبدالسلام ہنیہ کے مطابق ان کے والد کی سب سے اہم نصیحت یہ تھی کہ وہ کبھی بھی عام لوگوں، خصوصاً غزہ کے ساحلی پناہ گزین کیمپ کے باسیوں سے، جہاں ان کا خاندان پروان چڑھا، اپنا تعلق منقطع نہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ اسماعیل ہنیہ ہمیشہ اپنے بچوں کو عاجزی اختیار کرنے، خاندانی رشتوں کو مضبوط رکھنے، معاشرے کی خدمت کرنے، نماز اور قرآن کریم کی تلاوت کو معمول بنانے اور لوگوں کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کی تلقین کرتے تھے۔/
4367559