میڈیا سوفٹ وار کا اہم ہتھیار ہے

IQNA

8:26 - August 09, 2026
خبر کا کوڈ: 3520560
آیت اللہ محمد یعقوبی:

میڈیا سوفٹ وار کا اہم ہتھیار ہے

ایکنا: شیعہ مرجع تقلید نے موجودہ دور میں میڈیا کی ذمہ داری کی حساسیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعات کی تشکیل، رائے عامہ کی رہنمائی اور معاشروں میں شعور و آگاہی کے فروغ میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن ہے۔

1

عراق سے ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی نے اربعین حسینی کے ایام میں نجف اشرف میں حاضری دینے والے اور حرم مطہر امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی زیارت کے لیے آنے والے بعض مواد تخلیق کرنے والوں سے ملاقات میں کہا کہ آج میڈیا تبدیلی کا ایک اہم ترین ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ نرم جنگ کا خطرناک ترین ہتھیار بھی بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں لوگوں کے عقائد اور ثقافتوں کو تبدیل کرنے اور رائے عامہ کو ایک خاص سمت میں موڑنے کی صلاحیت بعض اوقات فوجی جنگوں سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس طرح کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے کہ قومیں اپنے دشمنوں کا دفاع کرنے لگیں اور خود کو باطل کے محاذ پر کھڑا کر دیں۔ انہوں نے عصر حاضر کے بعض واقعات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر میڈیا کے اثرات نے ایسے نتائج پیدا کیے جنہیں فوجی جنگیں حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

آیت اللہ یعقوبی نے اس بات پر زور دیا کہ مواد تخلیق کرنا اور سوشل میڈیا پر سرگرم رہنا کوئی معمولی یا عارضی کام نہیں بلکہ یہ ایک بڑی شرعی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، کیونکہ نشر کی جانے والی ہر بات اور ہر مواد افراد اور معاشروں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا» (سورۂ اسراء، آیت 36)

ترجمہ: اور جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔

کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے تقویٰ، دقتِ نظر، انصاف اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ میڈیا کو بھتہ خوری، کردار کشی، دوسروں سے ذاتی حساب چکانے یا عارضی دنیاوی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔/

 

4368510

نظرات بینندگان
captcha