بين الاقوامی گروپ:حجاب كا متحده عالمی دن
بنگله ديش كے دارالحكومت ڈھاكه میں" حجاب كا متحده عالمی دن" كے نام پر ايك سيمينار منعقد هوا جس میں مسلمان خواتين كے مختلف معاشروں میں حجاب كی پابندی كرنے كے اصول كے حق پر زور ديا گيا
ايران قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)نے (نيشن ایٹيفگ)ساﺋٹ سے نقل كيا هے كه اس سيمينار میں مختلف حكومتی عهديداروں اور دانشوروں نے شركت كی
بنگله ديش كی قومی اسمبلی كے سابق ركن قاضی عبد الرووف نے مغربی ممالك پر كھلی تنقيد كرتے هوۓ اشاره كيا كه :مغرب اسلام كی علمی معنوی ترقی كو نهیں ديكھ سكتا لهذا حسد كی آگ میں جلتے هوۓ اسلام سے نبرد آزمائ كا ايك راسته حجاب كے خلاف پروپيگينڈه كو سمجھتا هے۔
انهوں نے مزيد كها :حجاب عورت كی عزت و وقار كا ضامن هے كوئ بھی ملك مسلمان خواتين سے ان كا يه مسلم حق نهیں چھين سكتا۔
عبد الحنان شاه جو كه بنگله ديش كابينه كے سابق ركن هیں نے كها :بعض ممالك جيسے فرانس میں حجاب پر پابندی كے هم مذمت كرتے هیں اس قسم كے گھٹيا اقدامات اور ممالك میں بھی هوۓ جيسے انڈونيشيا اور ايران میں۔ ياد رهے كه ان دو ممالك میں اس دور میں حجاب پر پابندی لگائ گئ تھی جب ان دو ملكوں پر ڈيكٹیٹر حاكم تھے ليكن همارا سوال هے كه فرانس ايك طرف آزادی اور جمهوريت كا علمدار بنا هوا هے اور دوسری طرف حجاب پر پابندی لگا ركھی هے ۔آيا فرانس كے اس قابل مذمت اقدام كا كوئ جواز هے ؟!