حزب اللہ اوراستقامت

IQNA

حزب اللہ اوراستقامت

13:38 - September 12, 2006
خبر کا کوڈ: 1496672
حزب اللہ كی تاريخ گواہ ہے كہ حزب اللہ نے ہميشہ ايفائے عہد سے كام ليا ہے اوركسی كو كبھی كوئی ايسا قول اور وعدہ نہیں ديا جس پر عمل نہ كيا ہو

ابھی چند ماہ بھی شام میں بشار اسد كو صدر مملكت ہوئے نہیں گزرے تھے كہ شاہ عبداللہ كے اصرار پر جو اس وقت امير عبداللہ تھے ،انہوں نے سعودی عرب كا سفر كيا اوراس وقت كی امريكی وزير خارجہ البرائٹ كے ساتھ ان كی وہیں سعودی عرب میں ملاقات ہوئی اور البرائٹ نے بشار اسد سے سب سے پہلی فرمائش یہی كی تھی كہ "حزب اللہ كے ہاتھوں سے ہتھيار لے كر انہیں غير مسلح كردينا چاہئے "ممكن ہے كہ یہ امريكہ اور سعودی عرب كی مشتركہ خواہش رہی ہو جو بشاراسد كے سامنے ركھی گئی تھی يا البرائٹ كی زبان پر خود بخود آگئی تھی شام كے سربراہ نے جس كے جواب میں ايك ايسی حقيقت كا اعتراف كيا تھا جو دنيائے عرب كی موجودہ صورت حال كو نماياں كرتی ہے بشاراسد نے كہا تھا : " محترمہ البرائٹ ! اگر میں يا كوئی بھی عرب حكمراں آزاد فضاؤں میں انتخابات میں حصہ لينا چاہے كہ جمہوری طريقے سے حكومت حاصل كرے عوام كے ووٹ حاصل كرنے كےلئے اپنی تصويروں كے ساتھ ہم سيد حسن كی تصوير بھی نشر كرنے پر مجبور ہیں ، ہم كو ان سے كہنا ہوگا كہ انتخابی مقابلے میں وہ ہماری حمايت كریں اور ان كی حمايت سے ہم ضرور كامياب ہوجائیں گے ۔در اصل انہوں نے استقامت كے قائد كی حيثيت سے تمام عربوں اور مسلمانوں كے دلوں میں جگہ بنالی ہے اور عرب حكام ان كے ساتھ رقابت يا مقابلے كی قوت نہیں ركھتے ۔"
شام كے صدر جمہوریہ كے ان الفاظ میں وہ صداقت تھی جس نے عرب كے بہت سے حكام كو سيد حسن نصراللہ سے ملاقات اور اپنے ملك آنے كی دعوت پر مہميز كيا ، اگرچہ یہ وہ دعوت ہے جس كو ابھی تك مثبت جواب نہیں مل سكا ہے ؟
اس منزل میں سوال یہ ہے كہ سيد حسن نصراللہ كو كيوں اوركس طرح یہ مقام حاصل ہوا ؟ ظاہر ہے ،ان كا اہل سنت و الجماعت سے نہ ہونا ان كی مقبوليت میں ايك اہم ركاوٹ ہونی چاہئے تھی ، نہ تو وہ كسی ملك كے حاكم يا ملك پر حكمران جماعت كے سربراہ ہیں نہ ہی كسی خاندان حكومت سے ان كا تعلق ہے كہ كسی بہت بڑی شخصيت كے بیٹے ہوں اور قومی قيادت ورثہ میں مل گئی ہو نہ ہی مال و ثروت كے لحاظ سے يا وسائل وامكانات كے اعتبار سے كوئی ممتاز مقام ركھتے ہیں كہ پيسے دے كر قوموں كے دل میں جگہ بنالی ہو ! سوچئے وہ كون سی چيز ہے جس نے نہ صرف عرب دنيا بلكہ پورے عالم اسلام كا انہیں محبوب و عزيز بناديا ہے ؟! اور تقريبا" سبھی كی دلی خواہش یہ ہے كہ امريكہ ،برطانیہ اور اسرائيل كے شرمناك مثلث كی بہيمانہ جارحيت اور ہفتوں سے جاری نابرابر جنگ میں یہ سيد لبنانی كامياب و كامراں قرار پائے ،لوگ كيوں ان كی تقريریں اور بيانات توجہ سے سنتے ہیں اور ان كے ايك ايك لفظ كی صداقت پراطمينان ركھتے ہیں ؟
اس سوال كا جواب صرف ايك لفظ " عزت " ايك جملہ " العزۃ للّہ " اور ايك مصرعہ " الموت اولا من ركوب العار " ذلت كی زندگی سے عزت كی موت بہتر، میں پوشيدہ ہے ۔
برطانوی اور پھر امريكی سامراج كی قيادت میں مغربی ممالك كی بنيادی ترين پاليسی مسلمانوں خصوصا" عربوں كو ذليل و دست نگر ركھنا رہی ہے وہ مسلمانوں كو علمی ، اقتصادی ، فوجی ٹكنيكی حتی سياسی اور مذہبی طور پر بھی اپاہج ، ناتواں ، پسماندہ اور لاچار ديكھنا چاہتے ہیں چنانچہ مشرق وسطیٰ ان كی اس پاليسی كی بنيادی ترين جلوہ گاہ ہے ۔اہل مغرب ياكم از كم ان كے سرمایہ دار حكمراں ٹولے بشريت كے سينے میں كينسر كی طرح رسنے والے پھوڑے اسرائيل كی ہمہ گير حمايت و حفاظت كے ساتھ اس خطے كے اسلامی ملكوں كے اندر سياسی اور تحفظی اثر و رسوخ قائم كركے نہ صرف ان كے سروں پر اسرائيل كو مسلط كردينا بلكہ اس كا غلام و دستنگر بنادينا چاہتے تھے چنانچہ عرب سربراہوں سے ان كی اسلامی غيرت تو بڑی حد تك چھين چكے تھے ۔عربيت كے افتخار سے بھی ان كو محروم كردينا ان كا ہدف ومقصد بن گيا ۔
لبنان كی "حزب اللہ " عربوں كی كھوئی ہوئی اسی اسلامی عزت كو دوبارہ واپس دلانے كے لئے تشكيل پائی اور اس نے ايك منظم پروگرام كےتحت كام كرنا شروع كيا اورآہستہ آہستہ مسلمان ملتوں كے دلوں میں اس نے اپنی ايك خاص جگہ بنالی اور اسی حزب اللہ كی كاپی سرزمين فلسطين میں حزب اللہ " استقامت " كے نام سے ظہور پر پر ہوئی اورفوجی دائرے میں استقامت نے عملی طورپر گوريلا جنگ شروع كردی اس حكمت عملی میں اسلامی نظريات كی بنا پر عرب حكومتوں كے دامن میں پناہ لينے كے بجائے اہل استقامت نے عوام كے اوپر اعتماد كيا تاكہ انہیں بيجا قسم كے عہد و معاہدے كی پابندی كرنا اورامتيازات دينا نہ پڑے انہوں نے خدا كی قوت اوراسی كی دی ہوئی عزت پريقين كيااور ايثار و شہامت كی عاشورائی تہذيب كو منارۂ ہدايت قرارديا ۔ یہی وجہ ہے حزب اللہ كےیہاں غير انسانی تشدد اور سفاكی كے بجائے انسان دوستی اورہمدردی كےاسلامی اخلاق پوری طرح جلوہ گرہوئے ۔انہوں نے طالبان اور القاعدہ كی مانند تنظيموں كی طرح اپنوں اور غيروں میں ہر جگہ لوگوں كی نفرت و بيزاری خريدنے كے بجائے اپنوں اور غيروں كے درميان عزت واحترام جيتا حتی دشمن بھی ان كے " اخلاق " كے سامنے جھكنے اورفريفتہ ہونے پر مجبور ہوئے زبان سے وہ اگر اعتراف نہ كریں تو بھی ان كے عملی اقدام ظاہر كرتے ہیں كہ وہ بھی حزب اللہ اور اس كی قيادت كے اعلان و بيان پر يقين كرتے ہیں ۔
حزب اللہ كی تاريخ گواہ ہے كہ حزب اللہ نے ہميشہ ايفائے عہد سے كام ليا ہے اوركسی كو كبھی كوئی ايسا قول اور وعدہ نہیں ديا جس پر عمل نہ كيا ہو چنانچہ یہ لوگ بہت سوچ سمجھ كر كوئی بات منہ سے نكالتے ہیں اور دشمن بھی اس بات كو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور غير عملی وعدوں كے ذريعے قوموں اور ملتوں كو مايوسی اور نااميدی كا منہ ديكھنا نہیں پڑتا چنانچہ ان كے سچے وعدے ان كی ان كارروائيوں میں قابل مشاہدہ ہیں جو انہوں نے دشمن فوج كے نامردوں كو جنگی قيدی بنانے كے سلسلے میں كيا تھا كہ ان كے ذريعہ برسوں سے اسرائيليوں كی قيد میں زندگی بس كرنے والے لبنانيوں اور فلسطينيوں كے ساتھ قيديوں كا تبادلہ كرسكیں ۔اسی طرح حزب اللہ نے ہميشہ حتی جنگی خبروں میں بھی سچائی سے كام لياہے اور دشمن كے جانی و مالی نقصانات كے اعداد و شمار بيان كرنے میں جھوٹ سے كبھی كام نہیں ليا وہ عرب حكومتوں كے برخلاف جانتے ہیں كہ " بلف " كے ذريعہ اسرائيل كو شكست نہیں دی جا سكتی۔ شايد یہی وجہ ہے خبروں كے مطابق حزب اللہ لبنان كے سيكریٹری جنرل كے تازہ ترين بيان كے تحت مقبوضہ فلسطين میں خوف و وحشت كا وہ ماحول حكمراں ہے كہ صیہونی كابينہ كے اراكين میں جنگ میں كاميابی كے مسئلے پر اختلاف پيدا ہوگياہے اورتل ابيب سے بھاری تعداد میں اسرائيليوں نے فرار كرنا شروع كرديا ہے ۔
باخبر افراد جانتے ہیں كہ یہ جنگ حزب اللہ كے ذريعہ محض دو افراد كوقيدی بنالئے جانے كی وجہ سے نہیں شروع ہوئی ہے بلكہ طرفين كی جنگی حكمت عملی كا نتيجہ ہے ايك طرف حزب اللہ ہے جس نے اسرائيليوں كے ناقابل شكست ہونے كے ہوّے كو ختم كركے اس كواسلامی استقامت كے سامنے گھٹنے ٹيكنے پر مجبور كرديا ہے اوردوسری طرف اسرائيل ہےجو طرح طرح كی سياسی اقتصادی ، معاشرتی ، تحفظی اور فوجی پريشانيوں سے دست و گريباں ہے چنانچہ اسرائيلی حكام نے اس جنگ كو" موجوديت كی جنگ" كا نام دے ديا ہے یہ صیہونيت كی بقا كا مسئلہ ہے اس سے قبل عربوں كے خلاف لڑی گئی جنگوں كی طرح اس دفعہ اسرائيلی حكام اپنے اقتدار میں استحكام اورسرحدوں كی توسيع و ترقی كے لئے یہ جنگ نہیں لڑرہے ہیں بلكہ وہ حزب اللہ كے وجود كو اپنے وجود كے لئے خطرہ محسوس كررہے ہیں اور وہ یہ جنگ خود اپنے وجود اور بقا كے لئے لڑرہے ہیں ۔
نئے عيسوی سال كے آغاز كے وقت حزب اللہ كے قائد جناب حسن نصراللہ نے ايك تقرير كے دوران كہا تھا كہ ہمارے قيديوں كی مفاہمت آميز رہائی كی تمام تدبيریں ناكام ہوچكی ہیں " ليكن ہم اپنے قيديوں كو صیہونی پنجوں سے ضرور نجات عطا كریں گے " اور وعدہ ديا تھا كہ عنقريب ہی ہم كچھ اسرائيلی فوجيوں كو زندہ اسير كریں گے كہ ان كے ساتھ اپنے قيديوں كا تبادلہ كرسكیں ۔" انہوں نے اپنے انسانی جذبوں كا اظہار كرتے ہوئے در اصل دشمنوں كو سنجيدگی كےساتھ سوچنے كا موقع ديا تھا مگر صیہونيوں نے اپنے فوجيوں سے " الرٹ" رہنے كی تاكيد كردی اور پيشگی طور پر نئے اسراء بنانے كی مہم شروع كردی جس كے دوران 13 افراد مارے گئے مگر حزب اللہ كی " الوعد الصادق " كارروائی انجام پائی اور اس كے بعد اسرائيل نے لبنان كے خلاف باقاعدہ جنگی حملہ كرديا ۔حزب اللہ اس كے جواب كے لئے پہلے سے تيار تھی اور اس كے پيش نظر تھا كہ چند ہفتے قبل فلسطين میں اسی طرح كے ايك اقدام میں حماس تحريك نے جب ايك اسرائيلی كو قيد كرليا تھا تو كس طرح اسرائيل نے ديوانوں كی مانند اس كو اپنی حيثيت كا مسئلہ بنا كر غزہ پٹی كو خاك و خون میں غلطاں كرديا تھا ۔ لہذا حزب اللہ نے تمام پہلوؤں كو سامنے ركھ كر اقدام كيا تھا اوروہ اسرائيل كو ايك فيصلہ كن موڑ پر كھينچ كے لانے میں كامياب ہوگئی ہے ورنہ حزب اللہ كی طرف سے اسرائيل كے دو جنگجوؤں كی گرفتاری اور اسرائيلی افواج كی طرف سے اس وسيع سطح پر جنگی حملہ قابل موازنہ نہیں ہیں امريكہ اوراسرائيل كا اصلی مقصد علاقے میں اپنے قوی ترين حريف حزب اللہ كا خاتمہ كردينا ہے مگر حزب اللہ كو بھی معلوم ہے كہ اسرائيل كسی بھی رخ سے ايك طويل جنگ نہیں لڑسكتا اس لئے حزب اللہ نے بھی اپنی مخصوص جنگی حكمت عملی يعنی گوريلا جنگ كے ذريعہ اس دفعہ اسرائيل كو نابود يا كم از كم كمزور و بے بس كی حد تك پہنچادينے پر كمركس لی ہے ۔اورپورا عالم اسلام اس جنگ میں حزب اللہ كی فتح و كامرانی كا جشن منانے كے لئے بيچیں ہے ۔

نظرات بینندگان
captcha