ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے ڈاكٹر مصطفی دلشاد تہرانی سے ايك خصوصی انٹرويو ،رسولخدا ۖ كی سيرت اور انكے اخلاق حسنہ كے متعلق لياجس میں انہوں نے كہا كہ سب سے اہم مسئلہ جو رسول خدا ۖ كے حوالے سے خاص توجہ كا طالب ہے وہ آپ كا اخلاق يا سيرت طيبہ ہے وہ چيز جس نے جزيرۃ العرب میں انقلاب برپا كيا وہ اخلاق حسنہ رسول اسلام ۖ تھا قران كريم نے پيغمبر اسلام كے متعلق فرمايا ٫٫انك لعلی خلق عظيم٬٬ آپ ۖ تمام اخلاقی كمالات كے حامل هیں-
انہوں نے مزيد كہا كہ آپۖ گفتار و كردار كے اعلی نمونہ تھے اور آپۖ خاص آداب سے مزين تھے –كسی شخص نے امام صادقۜ سے سوال كيا اور امام نے فرمايا كہ خداوندعالم نے پيغمبر اسلامۖ كو اپنی محبت سے آداب سكھاۓ اور فرمايا٫٫ انك لعلی خلق عظيم ٬٬
تين جلدوں پر مشتمل كتاب ٫٫سيرت نبوی ٬٬ كے مصنف نے كہا كہ اخلاق اور سيرت نبوی پر ہمیں بطور خاص توجہ كرنی چاہیے اور سيرت كا معنی حركت كی حالت اور حركت كا انداز ہے اور دوسرے الفاظ میں سيرت وہی كلی اور ثابت اصولوں كے مجموعے كا نام ہے جو عمل میں ظاہر ہوتے ہیں ہم رسولخداۖ كی حيات طيبہ اور انكے بعد اﺋمہ طاہرين كی سوانح حيات میں ديكھتے ہیں كہ ان كی ايك سيرت تھی اور اس كے مطابق عمل كرتے تھے اور سب توفيقات اس سيرت كی وجہ سے حاصل ہوتی تھیں –پس قرآن اخلاق كا مجسمہ ہے اور پيغمبر اسلام ۖ اس قرآن كے حقيقی معنوں میں جلوہ اور مصداق ہیں-