۔روس كے صدر ولاديمير پوتين نے اعلان كيا ہے كہ روس ،ايران پر پابنديوں كا مخالف ہے اور اسی سلسلے میں ماسكو مغرب سے اختلاف رائے ركھتا ہے ۔دریں اثنا روس كی ایٹمی توانائی كی ايجنسی اور ايران كی ایٹمی توانائی كی ايجنسی كے سربراہ كرنيكو اور غلام رضا آقازادہ بوشہر ایٹمی بجلی كو مكمل كرنے كے حتمی وقت اور ایٹمی ايندھن كی ترسيل كے بارے میں مذاكرات كرنے والے ہیں ۔
چين كے نائب وزير اعظم يانگ جيچی نے پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی كے استعمال كے ايران كے حق پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ايران بين الاقوامی قوانين كے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن مقاصد كے لئے ایٹمی ٹيكنالوجی كا استعمال كرسكتا ہے ۔چين كے نائب وزير اعظم نے كہا كہ ايران كا ایٹمی معاملہ حساس مرحلے میں اور اسے مفاہمت آميز طريقے سے حل كيا جانا چاہئے ۔
جرمنی كے وزير خارجہ نے بھی ايران كے ایٹمی معاملے كو سفارتی طريقے سے حل كئے جانے كی ضرورت پر زور ديا اور كہا ايران كے خلاف سلامتی كونسل كے اقدام كے لئے كوئی بھی مہلت مقرر نہیں كی گئی ۔