IQNA

11:34 - October 05, 2006
خبر کا کوڈ: 1501122
روس كی قومی سلامتی كونسل كے سكریٹری ايگور ايوانف نےتہران میں اپنے ايرانی ہم منصب ڈاكٹر علی لاريجانی سے ملاقات میں كہاكہ ايران كے ایٹمی معاملے كے تمام پہلو مذاكرات كے ذريعے حل ہونے چاہئے تاكہ كسی اتفاق رائے تك پہونچنے كی زمين ہموار ہوسكے



ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سكریٹری نے بھی اميد ظاہر كی كہ روس ايران كے ایٹمی معاملے كے حل میں مدد كے لئے اپنے وسائل سے استفادہ كرے گا ۔ڈاكٹر لاريجانی اوريورپی يونين كی خارجہ پاليسی كے سربراہ خاوير سولانا نے بھی ايران كے ایٹمی معاملے كے حل كے لئے مشتركہ راہ حل تك پہونچنے كے لئے صلاح و مشورہ جاری ركھنے پر تاكيد كی ،یہ ايسی حالت میں ہے كہ سلامتی كونسل كے مستقل اراكين اورجرمنی ايران كے ایٹمی معاملے اورلاريجانی سولانا ملاقات كے نتائج كے سلسلے میں آئندہ دنوں میں اكٹھا ہونے والے ہیں، ليكن بيانات سے پتہ چلتاہے كہ ايران كے ایٹمی معاملے میں فيصلہ كرنے كے طريقہ كار كے سلسلے میں سلامتی كونسل كے مستقل اراكين كے درميان اختلاف نظر پايا جاتاہے ۔امريكہ اور برطانیہ كاخيال ہے كہ ايران پر پابندياں عائد كركے تہران كو پرامن ایٹمی سرگرمياں روكنے پر مجبور كرديا جائے ۔اسی بنياد پر امريكی حكام ايران يورپ ڈپلومیٹك صلاح و مشورے كو تعطل سے دوچار كرنے كےلئے ايران ، يورپ مذاكرات كے لئے ڈيدلائن كی بات كررہے ہیں ،ليكن يورپی يونين ايران كا ایٹمی معاملہ حل كرنے كے لئے مشتركہ راہ حل كے حصول كے لئے ڈپلومیٹك صلاح و مشورہ جاری ركھنے كی خواہاں ہے ۔امريكہ اور برطانیہ كے اقدامات پر رد عمل ظاہر كرتے ہوئے روسی وزير خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان كيا ہے كہ ايران كی ایٹمی فائل سے متعلق مسائل صرف مذاكرات اور سياسی طريقہ كار سے ہی حل ہوں گے ،چين بھی ڈپلومیٹك طريقے سے ايران كا ایٹمی معاملہ حل كرنے كا خواہاں ہے اور اس نے ايران پر پابندياں عائد كرنے كے سلسلے میں خبردار كياہے ۔مشرق وسطیٰ كے عرب ممالك نے بھی ايران كا ایٹمی معاملہ ڈپلومیٹك طريقے سے حل كرنے كا مطالبہ كياہے ۔جبكہ امريكی وزير خارجہ كونڈوليزارائس علاقے كے عرب ملكوں كے دورے میں یہ كوشش كررہی ہیں كہ ايران كی ایٹمی سرگرميوں كو خطرناك ظاہر كركے علاقے كے عرب ممالك كو ايران كے خلاف اكسائیں ليكن علاقے كے ممالك كے حكام كے بيانات سے پتہ چلتا ہے كہ رائس ايران كے خلاف اپنے مقاصد كے حصول میں ناكام ہوگئی ہیں ۔ان حقائق اورايران پر كسی بھی پابندی كی وسيع مخالفت كے پيش نظر ايران كے خلاف عالمی اتفاق رائے پيدا كرنے پر مبنی امريكی دعوے صرف پروپيگنڈہ اور عالمی رائے عامہ كو گمراہ كرنے كے لئے ہیں۔حقيقت یہ ہے كہ ترقی پذير ملكوں میں پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور عالمی برادری ايران كو پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادہ كرنے سے محروم كرنے كی ہركوشش كو مذكورہ ٹيكنالوجی سے ترقی پذير ممالك كو محروم كرنے كی بڑی طاقتوں كی كوشش كی واضح علامت سمجھتی ہے ۔اسی بنا پر امريكہ ،ايران كی پرامن ایٹمی سرگرمياں روكنے كے اپنے ہدف میں ناكام ہوگيا ہے اور اكيلا پڑگيا ہے ۔



نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: