ISI دفتر كے سامنے سے راكٹ برآمد

IQNA

ISI دفتر كے سامنے سے راكٹ برآمد

11:30 - October 08, 2006
خبر کا کوڈ: 1501584
پانچ اكتوبر: ايوان صدر كے سامنے سے دو راكٹ ملے تھے پاكستان كے دارالحكومت اسلام آباد سے سنيچر كے روز پوليس نے دو مزيد راكٹ برآمد كیے ہیں جو كہ بم ڈسپوزل سكواڈ نے ناكارہ بنادیے ہیں۔

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ كام، اسلام آباد





پانچ اكتوبر: ايوان صدر كے سامنے سے دو راكٹ ملے تھے
پاكستان كے دارالحكومت اسلام آباد سے سنيچر كے روز پوليس نے دو مزيد راكٹ برآمد كیے ہیں جو كہ بم ڈسپوزل سكواڈ نے ناكارہ بنادیے ہیں۔
یہ راكٹ پاكستان كی انٹيليجنس ايجنسی انٹر سروسز انٹيليجنس يعنی آئی ايس آئی كے صدر دفتر كے قريب سے ملے ہیں۔

اسلام آباد پوليس كی جانب سے جاری كردہ بيان میں بتايا گيا ہے كہ 107mm كے یہ راكٹ شاہراہ كشمير كے قريب واقع ’گرين بيلٹ‘ سے ملے ہیں۔ پوليس كی بتائی گئی جگہ كے سامنے ’آئی ايس آئی‘ كا صدر دفتر بہت كم فاصلے پر واقع ہے۔

سيكورٹی حكام كا كہنا ہے كہ اس بات كے امكان كو رد نہیں كيا جاسكتا كہ یہ راكٹ آئی ايس آئی كے ہیڈ كوارٹر كو نشانہ بنانے كے لیے نصب كیے گئے ہوں۔

پوليس كے جاری كردہ بيان میں بتايا گيا ہے كہ راكٹ ملنے كے بارے میں پوليس حكام تحقيقات كر رہے ہیں۔


آئی ايس آئی كا دفتر كم فاصلے پر
اسلام آباد پوليس كی جانب سے جاری كردہ بيان میں بتايا گيا ہے كہ 107mm كے یہ راكٹ شاہراہ كشمير كے قريب واقع ’گرين بيلٹ‘ سے ملے ہیں۔ پوليس كی بتائی گئی جگہ كے سامنے ’آئی ايس آئی‘ كا صدر دفتر بہت كم فاصلے پر واقع ہے۔


صبح جب نو بجے كے قريب یہ راكٹ ملنے كی اطلاع آئی تو بعض مقامی ٹی وی چينلز نے اسلام آباد كے سينيئر سپرنٹنڈنٹ پوليس سكندر حيات كے حوالے سے خبر نشر كی تھی كہ یہ راكٹ برآمد كرنے كی مشق تھی۔

ان كے مطابق پوليس نے خود راكٹ جنگل میں ركھے تھے تاكہ سيكورٹی حكام انہیں تلاش كركے ناكارہ بنانے كی مشق كرسكیں۔

ليكن ان كے اس موقف كے بعد جب پوليس حكام نے باضابطہ بيان جاری كيا تو اس میں اپنے سينيئر افسر كے بيان كے برعكس موقف بيان كيا گيا ہے۔ جب سكندر حيات كا موقف جاننے كے لیے فون پر رابطہ كيا گيا تو ان كے آپریٹر نے بتايا كہ ’صاحب مصروف ہیں اور راكٹ برآمد ہونے كے بارے میں پوليس كے بيان پر اكتفا كریں۔‘

واضح رہے كہ پانچ اكتوبر كو پارليمان كے سامنے سے دو روسی ساخت كے راكٹ اور ايك لانچر ملے تھے۔ اس بارے میں حكام نے بتايا تھا كہ ان راكٹوں سے تاریں بھی لگی تھیں جوكہ موبائل فون سے جڑی ہوئی تھیں۔

ان كے مطابق بظاہر انہیں لگتا تھا كہ یہ راكٹ ريموٹ كنٹرول سے چلانے كی سازش تھی۔

پانچ اكتوبر كو یہ راكٹ صدر جنرل پرويز مشرف كی راولپنڈی سے اسلام آْباد آمد كے محض دو گھنٹے پہلے برآمد ہوئے تھے۔ بعض تفتيش كاروں كا خيال ہے كہ شايد یہ راكٹ صدر كی گاڑيوں كے قافلے پر چلائے جاتے۔

چار اكتوبر كو راولپنڈی میں واقع صدر جنرل پرويز مشرف كی فوجی رہائش گاہ كے قريب ايوب پارك میں ايك دھماكہ ہوا تھا۔ جس كے متعلق بتايا گيا تھا كہ وہ ايك راكٹ پھٹنے كا دھماكہ تھا۔

صدر كی رہائش گاہ كے قريب دھماكے اور ان كے دفتر كے سامنے سے راكٹ ملنے كے بعد ان كی پہلے سے سخت سيكورٹی مزيد سخت كردی گئی ہے۔

نظرات بینندگان
captcha