ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق قومی اسمبلی كی ممبر اور قرآن و عترت كمیٹی كی سربراہ محترمہ لالہ افتخاری نے كہا كہ قرآنی معاشرہ كو قرآنی شخصيات تشكيل ديتی ہیں لہذا قرآنی معاشرہ تك رسايی كے لیے ضروری ہے كہ قراﺋت ،قرآنی آيات كا ادراك میں سمجھ بوجھ ركھنے اور ان میں غوروفكر كرنے والے افرد اس معاشرے كےلیے تيار كیے جاﺋیں-
انہوں نے قرآنی حوالے سے حكومتی اداروں كی طرف سے كیے گۓ اقدامات ،بعض ذمہ دار افراد كا اپنے خاص سليقہ سے برتاٶ كرنا ،اور قرآنی پروگراموں كےلیے متعدد صاحبان منصب حضرات كی طرف سے احكام صادر كرنے پر نكتہ چينی كی اور اسے قرآنی پروگراموں كی راه میں ايك بڑی مشكل قرار ديا -