ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق یہ بلاگ معتقد ہے كہ یہ مسألہ جو تمام مسلمانوں كے درميان قابل قبول ہے اور كسی كو اس میں شك و شبہ بھی نہیں كيونكہ خداوند كريم نے قرآن میں فرمايا ہے :ماہ رمضان وہ مہينہ ہے جس میں قرآن نازل كيا گيا (بقرہ۱۸۵)اور دوسری طرف سورہ قدرمیں ہم پڑھتے ہیں كہ:ہم نے اس ٫٫قرآن٬٬ كوشب قدر میں نازل كيا ، ان دو آيتوں كو ملاﺋیں تو یہ نتيجہ ملتا ہے كہ شب قدر ماہ رمضان سے خارج نہیں ہے اور يقينا اسی مہينہ میں ہے –
اسلامی حديث كی بنا پر خداوند نے دعا كی قبوليت كو دعاٶں كے درميان مخفی ركھا ہے تاكہ مومنين تمام دعاوں كو پڑھیں ،اسی طرح موت كے وقت كو مخفی ركھا تاكہ لوگ ہر حالت میں اس كو قبول كریں-
قيامت كے وقت اور امام زمانہ ۜ كے ظہور كے وقت كو بھی خدا نے مخفی ركھا تاكہ گناہگار لوگ اسے اپنے مقاصد كو پورا كرنے ہتھكنڈوں كے طور پر كے لیے استعمال نہ كریں اور مومنين ہر حالت میں اپنے اعمال كی طرف متوجہ رہیں-اسی طريقے سے خدا نے شب قدر كو بھی مخفی ركھا اور اس كا صحيح وقت معين نہ فرمايا-امام علی ۜ شب قدر كے مخفی ہونے كا سبب بيان كرتے ہوۓ فرماتے ہیں :یہ اس لیے ہے تاكہ مومنين تمام راتوں كی قدر كریں اور اس عظيم رات كو پانے كےلیے زيادہ سے زيادہ بندگی كریں اور براﺋيوں سے اپنے دامن كو بچاۓ ركھیں-