ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے بی - بی- سی خبر رساں ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ
یہ بات اقوام متحدہ اور افغان حكومت نے كہی ہے اور انہوں نے اس صورتحال سے بچنے كے لیے مزيد امداد كی اپيل كی ہے۔ پہلے 76 ملين ڈالر امداد كی اپيل كی گئی تھی ليكن اب اقوام متحدہ كا كہنا ہے كہ اب مزيد 40 ملين ڈالر كی ايمرجنسی اپيل كی جا رہی ہے۔
خشك سالی كی وجہ سے افغانستان میں گندم كی پيداوار ضرورت سے كم ہوئی ہے۔ جنوبی افغانستان كے سڑسٹھ دیہات میں كیے گئے ايك جائزے كے مطابق خشك سالی سے سب سے زيادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں كاشتكاروں كی پوريفصل خراب ہو گئی ہے۔
امدادی تنظيم ’كرسچن ایڈ‘ نے تين ماہ پہلے خبردار كيا تھا كہ جنوبی افغانستان میں قحط كا امكان ہے اور اس وقت 76 ملين ڈالر كی امدادی اپيل كی گئی تھی۔ تاہم اب تك اس رقم كا نصف حصہ بھی حاصل نہیں ہو سكا ہے۔
افغانستان: خشك سالی كا سامنا
یہ صورتحال جنوبی افغانستان میں طالبان اور نیٹو افواج كے درميان لڑائی میں اضافے كے وقت پيش آئی ہے اور كچھ لوگوں كا كہنا ہے كہ لڑائی كے علاوہ خوراك كی كمی كی ايك وجہ یہ ہے كہ خوراك كے بجائے پوست كی كاشت كی جا رہی ہے۔